وسیم اکرم نئے اسپورٹس چینل پر اچھے اسپیل کے لیے پُرجوش

کھیلوں کے شائقین کے لیے نیا چینل اے اسپورٹس 16 اکتوبر سے لانچ ہورہا ہے، وسیم اکرم چینل کے صدر ہیں۔

سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کی کہ "میں یہ بتاتے ہوئے مسرت محسوس کررہا ہوں کہ میں پاکستان کے پہلے ہائی ڈیفنیشن اسپورٹس چینل اے-اسپورٹس سے بطور صدر منسلک ہوگیا ہوں۔”

انہوں نے مزید لکھا کہ میں اے آر وائی گروپ اور اپنے دوست سلمان اقبال کا شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے یہ موقع دیا۔ یہ پاکستان میں کھیل اور میڈیا کے حوالے سے نہایت دلچسپ پیش رفت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

صحافیوں کے مسائل پر کوئی ٹی وی چینل یا اخبار آواز اٹھائے گا؟

ایک اور نیوز چینل بند ہوگیا، صحافتی تنظیمیں خاموش

پاکستان میں پہلے پرائیوٹ اسپورٹس چینل "جیو سوپر” کا آغاز 16 برس قبل بڑے زور و شور سے ہوا تھا۔

ستمبر 2006 میں جب جنگ جیو گروپ کے زیرانتظام جیو سوپر کا آغاز کیا جارہا تھا تو 150 سے 200 کے قریب افراد کو ملازم رکھا گیا تھا۔

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ جیو سوپر میں اس وقت دو درجن کے قریب ملازمین کام کررہے ہیں۔

پاکستانی میڈیا میں پرائیوٹ نیوز چینلز خود رو پودوں کی طرح نہایت تیزی سے قائم ہوتے چلے گئے۔ بازاروں، دکانوں، گھروں حتیٰ کے اسپتال کی انتظار گاہ میں بیٹھیں تو بھی نیوز چینلز ٹیون اِن ہوتا ہے۔

ٹی وی پر مستقل خبریں اور ٹاک شوز دیکھتے رہنے سے قوم کا مزاج ہی تبدیل ہوگیا ہے۔ نیوز چینلز کے درمیان "بازی” لے جانے، "نمبر ون” پر آنے کی ایسی دوڑ لگی ہے کہ معمولی معمولی خبروں کو بھڑکیلے رنگ کی بیک گراؤنڈ اسکرین، دھماکے دار موسیقی کے ساتھ اینکرپرسن ٹیبل پر مُکے مارتے ہوئے لفظوں کو چبا چبا کر پڑھتے ہیں کہ جیسے ناجانے کیا آفت آن پڑی ہو۔

ایسے میں نئے اسپورٹس چینل کا آن ایئر ہونا خوشگوار امر ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد اسپورٹس میں دلچسپی رکھتی ہے اور لوگ کرکٹ، فٹبال، ہاکی کھیلنے کے ساتھ ساتھ دیکھنا بھی پسند کرتے ہیں۔

کھیلوں کے شائقین کے لیے ہی نیا چینل اے اسپورٹس 16 اکتوبر سے لانچ ہورہا ہے جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیرو وسیم اکرم اچھا اسپیل کروانے کے لیے پرجوش ہیں۔

اگلے ہفتے سے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ کا بھی آغاز ہوگا اور کرکٹ شائقین اے اسپورٹس پر میچ دیکھنے کے ساتھ ساتھ تجزیئے اور دوسرے کانٹینٹ سے بھی لطف اندوز ہوسکیں گے۔

Facebook Comments Box