739 ارب روپے کا وفاقی پیکیج کراچی کی قسمت بدلے گا؟

اب وفاقی حکومت نے ملک کےمعاشی مرکز کی بہتری کے لیے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان تیار کیا ہے۔ دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت آئندہ 3 سالوں میں شہر قائد کے لیے 739 ارب روپے کے منصوبے شروع کرے گی۔

یہ حقیقت ہر پاکستانی پر واضح ہے کہ کراچی کی قسمت سے پاکستان کی قسمت جڑی ہے۔ کراچی خوش حال تو پاکستان خوش حال اور کراچی بے روزگار تو پورے پاکستان پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسے میں وفاقی حکومت کا 739 ارب روپے کا پیکج کیا کراچی کی قسمت بدلے گا؟

وزارت منصوبہ بندی میں یہ بات ذباں زد عام ہے کہ اسد عمر ویسے ممبر قومی اسمبلی اسلام آباد سے ہیں لیکن انہیں کراچی کا قبلہ درست کرنے کی دھن سوار رہتی ہے۔

بیورو کریسی اور متعلقہ ادارے گواہ ہیں کہ شاید ہی کوئی ایسا ہفتہ ہو جس میں کراچی کے پراجیکٹس، ان پر عمل درآمد میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کوئی اجلاس نہ ہوا ہو۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی کی سمندری حدود میں ماہی گیروں کے جال میں کھگہ مچھلیاں آگئیں

کراچی کا اسکول کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگا

 مون سون کی حالیہ بارشوں سے کراچی کا جو حال ہوا ہے اس میں اب تک رتی برابر بھی بہتری نہیں آئی ہے۔ پاکستانی میڈیا روزانہ اپنی براہ راست نشریات، بظاہر براہ راست دکھنے والی نشریات اور رپورٹس میں کراچی کے مسائل پر چیخ رہا ہے اور شاید اسی کا اثر ہے کہ وفاقی حکومت کراچی کے حالات کو بدلنے کے لیے نت نئی میٹنگز کرتی رہتی ہے۔

کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کیا ہے؟

اب وفاقی حکومت نے ملک کےمعاشی مرکز کی بہتری کے لیے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان تیار کیا ہے۔ اس کی تفصیلات نیوز360 کو مل چکی ہیں۔ دستاویز کے مطابق  وفاقی حکومت آئندہ 3 سالوں میں شہر قائد  کے لیے 739 ارب روپے کے منصوبے شروع کرے گی۔

منصوبوں کی فنڈنگ پی ایس ڈی پی یعنی وفاقی ترقیاتی بجٹ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یعنی نجی شعبے کی معاونت اورسپریم کورٹ فنڈز سے پوری کی جائے گی۔

پاکستان کے تمام ماہرین معاشیات اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کراچی اور سیالکوٹ وہ شہر ہیں جنہیں پراجیکٹس کے لیے فنڈز کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ شہر اپنے پراجیکٹس کے لیے فنڈز خود اکٹھے کرلیتے ہیں۔

ان شہروں کو پراجیکٹس کی تکمیل کے لیے نیک نیتی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وفاقی حکومت کے پلان کے مطابق عالمی مالیاتی اداروں سے بھی فنڈنگ لینے کی تجویز ہے۔ وزارت قانون سپریم کورٹ فنڈ استعمال کرنے کے لیے عدالت عظمی سے درخواست کرے گی۔

سپریم کورٹ فنڈ سے پیسے نہ ملنے پرتکنیکی گرانٹ کے ذریعے فنڈزکا انتظام کیاجائے گا۔ دستاویز کے مطابق  کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے لیے این ڈی ایم اے 7 ارب روپے فراہم کرے گا۔ پلان پر عملدرآمدکاجائزہ لینے کے لیے ممبر قومی اسمبلی نجیب ہارون کی صدارت میں سٹیرنگ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

نجیب ہارون ویسے بھی تعمیرات کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور پاکستان میں ان کے تعمیراتی منصوبے اپنی مثال آپ ہیں۔ ممبرپلاننگ کی زیر صدارت مانیٹرنگ اینڈ ایویلیو ایشن کمیٹٰی بھی تشکیل دینے کی تجویز ہے تاکہ پراجیکٹس پر کام کی رفتار کا جائزہ بروقت لیا جاسکے۔

دستاویز کے مطابق گریٹر کراچی واٹر سپلائی پراجیکٹ بےگھر افراد کی آبادکاری منصوبے کا حصہ ہے۔  نیاپاکستان ہاوسنگ اتھارٹی کراچی کے بےگھر افراد کے لیے فلیٹس تعمیر کرے گی۔ ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم مکمل کیاجائے گا۔

گریٹر کراچی واٹر سپلائی پراجیکٹ کے لیے وفاق مالی  وسائل فراہم کرے گا۔ کراچی سرکلرریلوے اورڈبل ریلوے لائن فریٹ کوریڈورمنصوبہ وزارت ریلوے مکمل کرے گی۔ ندی نالوں کے کنارے تجاوزات کا خاتمہ صوبائی حکومت کی ذمہ اری ہوگی۔

وزارت منصوبہ بندی کے حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کراچی کی ترقی اور اس میں بسنے والے عوام کے لیے سہولیات کی بہتری کے لیے خصوصی دلچسپی لیتے ہیں۔

Facebook Comments Box