ڈرامہ نگار سیما غزل کے پھیپھڑوں کا مرض سنگین، وزیراعظم سے مدد کی اپیل

سیما غزل کا کہنا ہے کہ پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ امریکہ میں ممکن ہے علاج کے لئے مدد فراہم کی جائے

پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کو کئی مقبول اور یاد گار ڈرامے دینے والی معروف ڈرامہ رائٹر سیما غزل پھیپھڑوں کا مرض  سنگین ہوگیا ، انھوں نے حکومت سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے  کہا ہے کہ ان کے پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ امریکہ میں ممکن ہے جس کے لئے مجھے مدد فراہم کی جائے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ  ٹوئٹر پر ایک صارف نے  معروف ڈرامہ نگار سیما غزل کی ایک مختصر ویڈیو شیئر کی ہے جس میں  سیما غزل  نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ  ان کے پھیپھڑوں کی ٹرانسپلانٹیشن کےلئے مالی امداد فراہم کی جائے۔

سیما غزل نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹریز کو مہندی، چاندنی راتیں،  انا، ہم سے جدا نہ ہونا  سمیت متعدد ہٹ ڈرامہ  دیئے ہیں ، ا ن کے ڈراموں کو لگاتار سات سالوں تک لکس ایوارڈ  کےلئے منتخب کیا جاتا رہا ہے۔

انھوں نے 1989 سے اپنے کریئر کا آغاز کیا اور خواتین کی معروف  ڈائجسٹ “دوشیزہ ” کی ایڈیٹر کی ذمہ داریاں نبھائیں  ، اپنے کریئر کے دوران سیما غزل نے 400 سے زائد ڈرامے لکھے جس میں سے 180 سے زائد نشر ہوچکے ہیں تاحال چار مختلف چینلز پر ان کے ڈرامے جاری ہیں ، سیما غزل نے  اپنی شاعری  مجموعہ “میں سائے خود بناتی ہوں” 2013 میں چھپا ہے اور کو پروین شاکر “خوشبو” ایوارڈ سے نوازا گیاتھا۔

Facebook Comments Box