کیا پی ڈی ایم اتحاد قائم رہ پائے گی؟

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اگر اسمبلیوں سے استعفے نہیں دیے گئے تو وہ پی ڈی ایم اتحاد کی سربراہی سے الگ ہوجائیں گے۔

پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا سربراہی اجلاس منگل کے روز مولانا فضل الرحمٰن کی زیر صدارت ہوگا۔ اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے حتمی حکمت عملی طے کی جائے گی اور پارلیمنٹ سے استعفے دینے کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ پی ڈی ایم کا اتحاد کے لیے آج کا اجلاس انتہائی اہم ہے جس پر سیاسی حلقوں نے نظریں جمائی ہوئی ہیں۔

صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی ڈی ایم) کی حکومت ہے جن کا موقف یہ ہے کہ پارلیمان کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خلاف جدوجہد کی جائے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتیں استعفے دینے اور لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر زور دے رہی ہیں۔

پیر کے روز پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ اگر ہم اس پارلیمان سے استعفے نہیں دیں گے تو شاید لانگ مارچ اپنی افادیت کھو دے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز پر دباؤ ڈالنے کے لیے نیب نے ان کی ضمانت کی منسوخی کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے جبکہ نیب یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ مریم نواز ضمانت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اداروں کے خلاف بولتی ہیں۔

سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں شکست سے متعلق سوال کے جواب میں سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ انتخاب میں ہمارے ووٹ کس طرح کم ہوئے اس بارے میں پی ڈی ایم کے اجلاس میں گفتگو ہوگی۔

پی ڈی ایم اتحاد
Courtesy: Dawn

پی ڈی ایم کی جماعتیں اسمبلیز سے استعفوں کے معاملے پر اختلافات کا شکار ہیں۔ گذشتہ اجلاسوں میں اسمبلیز سے استعفوں کے معاملے پر پیپلزپارٹی کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کرچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پیپلزپارٹی کو لانگ مارچ پر قائل ہونا پڑے گا؟

پی ڈی ایم کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اسمبلیز سے استعفے پر مصر ہیں۔

پی ڈی ایم اتحاد

پاکستان پیپلزپارٹی کے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کا کہنا ہے کہ دیگر جماعتوں کے دباؤ میں آکر استعفے دینے کا فیصلہ کسی صورت درست نہیں۔ ماضی میں بھی پیپلزپارٹی نے استعفوں کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اسمبلیوں سے استعفے عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔

پی ڈی ایم اتحاد
DAWN

اہم سوال یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن پیپلزپارٹی کو استعفوں پر راضی کرلیں گے؟ اور کیا پیپلزپارٹی کے اختلاف کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ متحد بھی رہ پائے گی یا نہیں؟

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا موقف ہے کہ اسمبلیوں سے استعفے دے کر ہی ہم مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے۔

دوسری طرف مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اگر اسمبلیوں سے استعفے نہیں دیے گئے تو وہ پی ڈی ایم اتحاد کی سربراہی سے الگ ہوجائیں گے۔

Facebook Comments Box