عجب کرپشن کی غضب کہانی، محکمہ تعلیم کالجز کا مضحکہ خیز حکم

تینوں کالجز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ 75 ہزار روپے کی ” الیکٹرونک بایو میٹرک اٹینڈینس ڈیوائس“مخصوص ڈیلر سے ہی خریدیں

محکمہ تعلیم کالجز سندھ نے کراچی کے تین گرلز کالجز کو مخصوص ڈیلر کے پاس ہی دستیاب  ” الیکٹرونک بایو میٹرک اٹینڈینس ڈیوائس“ کو خریدنےکے احکامات جار ی کئے ہیں  اور ڈیوائس کی تنصیب نہ کرنے  پر کالجوں کے گزشتہ پانچ سالوں کے ”انٹرنل آڈٹ اور انسپیکشن“ کی دھمکیاں دی ہیں۔

تفصیلات کےمطابق محکمہ تعلیم کالجز سندھ نے کراچی کے تین گرلز کالجز کو گورنمنٹ رونق ِ اسلام کالج کھارادر ، گورنمنٹ گرلز کالج شاہ فیصل کالونی اور گورنمنٹ اپوا کالج فاروومن کریم آباد کو لیٹر جاری کردیئے جس کے تحت کراچی کے ضلع  ملیر میں ماڈل کالونی کے ایک مخصوص ڈیلر کے پاس دستیاب” الیکٹرونک بایو میٹرک اٹینڈینس ڈیوائس“ نصب نا کرنے پرناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

کرونا وائرس کے باعث تعلیمی ادارے بند، کارنر میٹنگز جاری

یکساں نصاب تعلیم کا معاملہ، وفاق اور سندھ حکومت آمنے سامنے

محکمے کی جانب سے  تینوں کالجز کے پرنسپلز کو پابند کردیا گیا ہے کہ وہ تقریباً پچھتّر ہزار روپے  کی ” الیکٹرونک بایو میٹرک اٹینڈینس ڈیوائس“صرف ماڈل کالونی کے ایک مخصوص ڈیلر سے ہی خریدیں  اور  20نومبر 2021 تک لازمی نصب کروالیں  ، ہدایات پر نا کرنے کی صورت میں کالجز کو دھمکی د ی گئی ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کی ”انٹرنل آڈٹ اور انسپیکشن“ کیا جائے گا ۔

پرنسلز کا کہنا تھا کہ کالج میں فنڈز کی کمی کی وجہ سے ” الیکٹرونک بایو میٹرک اٹینڈینس ڈیوائس“ نہیں لگواسکتے،

       محکمہ تعلیم کالجز کی جانب سے ہر کالج پرنسپل کو اپنے کالج میں ” دس ہزار سے زائد “ ملازمین کی حاضری ریکارڈ کرنے والے مخصوص ڈیوائس نصب کرنے کا حکم بھی بڑا مضحکہ خیز ہے ۔

Facebook Comments Box