جمشید اقبال چیمہ نے ن لیگ کی دھاندلی کے ثبوت پیش کردیے

پنجاب حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے بعد این اے 133 کے ضمنی انتخاب کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا

ویر اعظم  عمران خان کے سابق معاون خصوصی برائےخوراک تحریک انصاف کی جانب سے لاہور کے حلقہ این اے 133 کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ نے مسلم لیگ نواز کے دور میں تیار کردہ  ووٹر لسٹوں کے حوالے سے انکشاف کیا ہے  جس میں بتایا گیا ہے کہ  ہر حلقے میں موجود ووٹرز سے کئی گنا ہ زیادہ ووٹر رجسٹرڈ ہیں  جو نون لیگ  کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی  کی بدترین مثال ہے۔

لاہورکے حلقہ این اے 133 کی سیٹ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما ملک پرویز کی وفات کےباعث خالی ہونے والی نشست پر ضمن الیکشن کی تیاریاں جاری ہیں  حلقے میں 5 دسمبر کو انتخاب  کا عمل کیا جائے گا ، اس نشست پر تحریک انصاف کے رہنما جمشید اقبال چیمہ  نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائی تھی ، ان کے کاغذات نامزدگی مسترد  ہوگئی ہے تاہم  انھوں نے الیکشن کے حوالے سے ایک اہم انکشاف کیا ہے ، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جمشید اقبال چیمہ نے ایک ویب ٹی وی کا ٹالک شو شیئر کرتے ہوئے  لکھا کہ اگر مردم شماری میں کسی حلقے میں ایک بلاک میں 1100 افراد ہیں، بشمول بچے، تو الیکشن لسٹوں میں وہاں 2600 افراد کے ووٹ ہیں. ہم نے جب ایسے بلاکس کی نشاندہی کی پورے این اے 133 میں تو پتہ چلا کہ 46,837 ایسے ووٹ ہیں ۔ انھوں نے لکھا کہ  یہ دھاندلی کی بدترین مثال ہے جو نون لیگ کرتی ہے۔

واضح رہے کہ  پنجاب حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے بعد صوبے میں حالات معمول پر آنے تک این اے 133 کے ضمنی انتخاب کو ملتوی کرنے کا مطالبہ  کیا تھا ۔  محکمہ داخلہ پنجاب نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا جس میں صوبائی دارالحکومت میں ضمنی انتخابات کو دوبارہ شیڈول کرنے کی درخواست کی گئی تھی ۔

Facebook Comments Box