حکومت کا انقلابی قدم، شوگر انڈسٹری میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام کا افتتاح

وزیر اعظم نے کہا ہے موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ ٹیکس چوروں اور مافیا کے گٹھ جوڑ کو توڑا ہے۔

ٹیکس چوری روکنے کے لیے حکومت کا انقلابی قدم، وزیر اعظم عمران خان نے شوگر انڈسٹری کے لئے ٹریک اینڈ ٹریس نظام کا افتتاح کر دیا۔

وزیر اعظم ہاؤس میں خصوصی طور پر منعقد کی جانے والی تقریب میں وزیر اعظم عمران خان نے چینی سیکٹر کے لئے ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس نظام کا افتتاح کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

سارے شہر کی مشینری اور عملہ لے کر جاؤ اور نسلہ ٹاور گراؤ،چیف جسٹس کا حکم

پی ڈی ایم اجلاس: مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ کے لیے چیلنج کھڑا کردیا

اس موقع پر وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیو شوکت ترین، کابینہ ممبران، پارلیمنٹیرینز ، وفاقی سیکریٹریز ، شوگر ملز ایسوسی ایشن کے عہدیداران ، چئیرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد اشفاق احمد اور ایف بی آر کے سینئر افسران نے تقریب میں شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام کا افتتاح پاکستان کی معاشی ترقی کو حاصل کرنے کی طرف ایک تاریخی اہمیت کا حامل دن ہے جس کی وجہ سے مستقبل میں معاشی خوشحالی ممکن ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام ٹیکنالوجی پر مبنی پروگرام ہے جس کی وجہ سے پیداوار کا صحیح تخمینہ لگانا ممکن ہو گا۔ ٹیکس سٹیمپس چسپاں کرنے کی وجہ سے پیداوار کے غلط اعدادو شمار کا سدباب ہو گا اور کوالٹی کنٹرول میں بہتری کی وجہ سے محاصل کے حصول میں اضافہ ہو گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت کو چارج سنبھالنے کے بعد بد ترین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا اور کئی چیلنجز سے نمٹنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ٹیکس اکھٹا کرنے کا نظام باقی دنیا کے مقابلے میں بہت کمزور تھا اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح  کم ترین سطح پر تھی۔ عوام کی فلاح کے لئے ہم اپنے وسائل کو موثر طریقہ سے استعمال میں نہیں لا پا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اس نظام میں تبدیلی لائی اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جو کہ ایف بی آر کے صحیح سمت کے تعین کے بعد ہی ممکن ہوا۔ ہماری ترجیح پیداوار کی نگرانی کو بہتر اور موثر کر کے محاصل کے حصول میں اضافہ پر مرکوز رہی۔

وزیر اعظم نے کہا  کہ موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ ٹیکس چوروں اور مافیا کے گٹھ جوڑ کو توڑا ہے۔ حکومت نے مشکل فیصلے لئے اور موثر قانون سازی کے ذریعے کرپشن کو روکا اور شفافیت اور میرٹ کو یقنی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر نے ہمارے اس اقدام کو روکنے کی بھر پور کوشش کی یہ سمجھتے ہوئے کہ مثبت معاشی اقدامات اور ریونیو میں اضافہ انسانی ترقی ، انفراسٹرکچر کی بہتری ، صحت اور تعلیم کے لئے کتنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی کی یہ ترجیح رہی ہے کہ ٹیکس نظام میں ڈیجیٹائیزیشن اور آٹومیشن میں اضافہ کیا جائے تاکہ رشوت، دباؤ اور ٹیکس چوری کا قلع قمع کیا جا سکے۔ ٹریک اینڈ ٹریس نظام اس معاشی پالیسی کا مرکزی ستون ہے جو کہ محاصل کے حصول میں انقلابی تبدیلی لے کر آئے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے ٹریک اینڈ ٹریس نظام کو متعارف کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہر ہ کیا اور ایک دہائی سے زائد عرصہ میں پانچ مرتبہ کوشش کرنے کے باوجود اس نظام کو متعارف نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو بھی اس نظام کو متعارف کرنے میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود موجودہ حکومت نے اس چیلنج سے نمٹتے ہوئے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیا اور ایک پائیدار پالیسی اور ریگیولیٹری فریم ورک کے ذریعے اس نظام کو متعارف کیا۔

آخر میں وزیر اعظم عمران خان نے چئیرمین اور ٹیم ایف بی آر کی مسلسل ہدف سے زائد محصولات کے حصول  پر تعریف کی اور امید کا اظہار کیا کہ ایف بی آر رواں مالی سال 6 کھرب روپے کا ہدف حاصل کرلے گا۔ وزیر اعظم نے ایف بی آر کی محدود عرصہ میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام کو متعارف کرنے اور لائیسنس حاصل کرنے والی کمپنی اے جے سی ایل / آتھینٹکس کی طرف سے بروقت عمل درآمد کی بھی تعریف کی۔

Facebook Comments Box