کراچی: مفتی عبدالقیوم کے قتل کی سپاری انٹیلی جنس ادارے کے افسر نے دی
پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم کی نشاندہی کو پولیس افسر عتیق کو گرفتار کرلیا گیا ہے ، ملزم اور مفتی کے درمیان پلاٹ کا تنازعہ چل رہا تھا۔
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں قتل ہونے والے مفتی عبدالقیوم کے کیس میں پولیس کا اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مفتی عبدالقیوم کے قتل کا اصل مجرم انٹیلی جنس ادارے کا افسر ہے۔
تفصیلات کے کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے مفتی عبدالقیوم کے کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ پولیس نے مفتی عبدالقیوم کو سر میں گولی مارکر قتل کرنے والے مرکزی کو گرفتار کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کےپی میں مفت آٹے کے حصول کیلئے ایک ہفتے میں 3 افراد جاں بحق 4 زخمی ہوئے،رپورٹ
سستے آٹے کے نام پر موت کی تقسیم جاری، پشاور میں احتجاجی خواتین پر مقدمہ درج
دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں ایک انٹیلی جنس آفیسر نے مفتی عبدالقیوم کی ٹارگٹ کلنگ کی سپاری دی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے بیان دیا ہے کہ انہوں نے مفتی عبدالقیوم کے قتل کے 5 لاکھ روپے وصول کیے تھے ، ڈھائی لاکھ روپے قتل سے پہلے اور ڈھائی لاکھ روپے قتل کے بعد وصول کیے گئے۔
پولیس نے ٹارگٹ کلنگ کرنے والے ملزم کی نشاندہی پر مرکزی ملزم عتیق کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم عتیق ، مفتی عبدالقیوم کے قتل کی کارروائی سی سی ٹی وی کیمرے پر دیکھتا رہا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم عتیق نے مزید دو افراد کے قتل کی سپاری بھی ملزمان کو دیکھ رکھی تھی۔ مفتی عبدالقیوم اور ملزم عتیق کے درمیان پلاٹ کا تنازعہ چل رہا تھا جس بنا پر ملزم نے مفتی کا قتل کروایا۔









