ڈالر باہر لیجانے کیلئے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز
بجٹ دستاویز کے مطابق کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ سے ڈالر میں ادائیگیاں کرنے پر ٹیکس 1 سے بڑھا کر 5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
نئے مالی سال 2023-24 کے بجٹ میں وفاقی حکومت کو ڈالر باہر لیجانے کیلئے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر کو کنٹرول کرنے کے لیے مالی سال 2023-24 کے بجٹ میں کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ سے ڈالر میں ادائیگیاں کرنے پر ٹیکس 1 سے بڑھا کر 5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
آف شور ڈیجٹل خدمات پر ٹیکس 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ سمندر پار پاکستانیوں کیلئے ٹیکس میں رعایت دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کا بوجھ آنے والی حکومت پر ڈال دیا
اسٹیٹ بینک کے غیرملکی زر مبادلہ کے ذخائر 4 ارب ڈالر سے گرگئے
دستاویز کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کی کرائے کی آمدن پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 2 سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ، جبکہ سمندر پار پاکستانیوں کے پراپرٹی خریدنے پر ود ہولڈنگ ٹیکس 2 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ 2023-24 کی دستاویز کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کی سالانہ 2 کروڑ کی کرائے کی آمدن پر فکس 10 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ تعمیراتی سامان کی سپلائی پر ٹیکس 4 سے بڑھا کر 5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق کنٹریکٹرز پر 7 سال کیلئے ٹیکس 4.5 سے بڑھا کر 5.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ 2023-24 کی دستاویز کے مطابق سالانہ 15 کروڑ سے 20 کروڑ روپے کے منافع پر ایک فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔









