90 روز میں انتخابات نہ ہوئے تو آئین کی خلاف ورزی ہو گی، سپریم کورٹ

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے مجھے میرے آئینی اختیارات کے استعمال سے روکا جارہا ہے ، فوج سے سیکورٹی ، عدلیہ سے آر اوز اور حکومت سے پیسے مانگے نہیں دیئے گئے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ مجھے میرے آئینی اختیارات اور آئینی تقاضوں پر عمل سے روکا جارہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے سپریم کورٹ میں موقف دیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سی سی پی او لاہور غلام محمد ڈوگر کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی ، عدالتی احکامات کے باوجود ان کے تبادلے پر سپریم کورٹ کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو طلب کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور ہائیکورٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواست دائر

لاہور ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سمیت 97 لاء افسران کی برطرفی کو درست قرار دے دیا

تفصیلات کے مطابق جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں بینچ نے سی سی پی او لاہور کی ٹرانسفر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے درخواست آئی تھی جس بنا پر ان کو ٹرانسفر کیا گیا۔

اس پر سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت بڑے پیمانے پر تبادلوں کی اجازت نہیں دے سکتی ، اور نہ ہی آئین اس چیز کی اجازت دیتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ آپ وہ اختیارات نہ دیں جو آئین بھی نہیں دیتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ آئین بڑا واضح ہے کہ جب اسمبلی تحلیل ہو جائے تو 90 روز کے اندر انتخابات کرانا لازم ہیں ، الیکشن کمیشن پابند ہے کہ وہ انتخابات وقت پر کرائے۔

جس پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ہم نے ضمنی انتخابات کو بھی دیکھنا ہے ، اور عام انتخابات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

جس پر عدالت کا کہنا تھا اگر آپ 90 روز میں انتخابات نہیں کرائیں گے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہو گی ، جس پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ہم آئین کے ایک آرٹیکل کی پابندی کرتے ہیں تو دوسرے کی خلاف ورزی ہو جاتی ہے ، اس لیے ہم نے تمام حالات کو دیکھنا ہے۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ نگراں حکومت کو کسی بھی طرح کا اختیار حاصل نہیں ہے وہ بڑے پیمانے پر ٹرانسفر یا پوسٹنگ کرے۔ الیکشن کمیشن نے غیرجانبدار رہ کر خود اپنی سوچ سے فیصلہ کرنا ہے ، اس کے بعد اگر ٹرانسفر پوسٹنگ بہت ضروری ہو تو وہ کرنی ہے۔

سکندر سلطان راجہ کا کہنا تھا مجھے میرے آئینی اختیارات کے استعمال سے روکا جارہا ہے ، فوج سے سیکورٹی مانگی تو انہوں نے سیکورٹی دینے سے انکار کردیا ، لاہور ہائی کورٹ سے آر اوز مانگے تو انہوں نے منع کردیا ، وفاق سے پیسے مانگے تو کہا گیا کہ پیسے نہیں ہیں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔

متعلقہ تحاریر