وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کو ہٹانے کے عدالتی فیصلے کو نامناسب قرار دے دیا
سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے سندھ کی دو بچیوں نے بھاگ کر پنجاب میں کم عمری میں شادی کرلی کیونکہ سندھ میں نابالغ بچے بچیوں کی شادی پر پابندی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ دعا زہرا کیس میں آئی جی سندھ کو ہٹانے سے متعلق عدالتی حکم نامناسب ہے۔ ان کا کہنا ہے سندھ کی دو بچیوں نے بھاگ کر پنجاب میں کم عمری میں شادی کرلی ، کیونکہ سندھ میں کم عمری میں شادی پر پابندی ہے۔
ان خیالات کا اظہار سید مراد علی شاہ نے ریسکیو 1122 سروس کے افتتاح کے موقع پر کیا۔ ان کا کہنا تھا نئے آئی جی سندھ کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مشاورت جاری ہے تاہم ابتدائی طور پر سینئر پولیس افسر کو قائم مقام آئی جی تعینات کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سندھ ہائی کورٹ کا آئی جی سندھ سے چارج واپس لینے کا حکم
سندھ ہائی کورٹ کا نمرہ کاظمی کو شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں مگر دعا زیرا کیس میں آئی جی سندھ کو ہٹانے کا فیصلہ مناسب نہیں ہے ۔ ان کا کہنا تھا ہم سندھ ہائی کورٹ کے تمام فیصلوں کو قدر کی گناہ سے دیکھتے ہیں۔
تقریب سے مزید خطاب کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا سندھ میں نئی ایمبولینس سروس کے آغاز سے بہت خوشی ہوئی، جدید ترین ریسکیو 1122 سروس کا قیام سندھ کی ترقی کی جانب پہلا قدم ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا صوبہ سندھ موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات اور دیگر خطرات نبردآزما ہے، گزشتہ کچھ برس سے قدرتی آفات کے باعث کافی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، وبائی امراض ،گرمی کی لہر، سیلاب، خشک سالی ، آگ اوردھماکوں کے متعدد حادثات ہوئے۔
ان کا کہنا تھا صوبے کی بڑھتی آبادی ، قدرتی آفات اور کورونا جیسی وبائی امراض کا سامنا ہے ، ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح لوگوں کو ہنگامی ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی خدمات فراہم کرنا ہے ، بروقت حادثات سے نمٹنے اور مشکلات میں کمی جیسی بہترین سروس کیلئے کوشاں ہیں،حکومت سندھ کا ریسکیو 1122 پروجیکٹ کے تحت ریسکیو سروس کے آغاز نیا اقدام ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس 230 ایمبولینسز ہیں ، پہلے مرحلے میں کراچی ڈویژن ایمبولینسز دی جائیں گی، دوسرے مرحلے میں صوبے کے دیگر ڈویژنوں اور اضلاع میں چلائی جائیں گی، منصوبے کے تحت ایک سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کرنا ہے۔
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا ریسکیو 1122 کی خدمات کے موثر استعمال کو مربوط اور یقینی بنایاجائے گا، سینٹر کے قیام پر کام پہلے سے چل رہا ہے ، سنٹرلائزڈ کمانڈ سنٹر کے علاوہ ڈویژنل سطح کے ہیڈ کوارٹرز پر بھی کام شروع ہو چکا ہے، مرکزی سینٹر اور دیگر کامنڈ سینٹرز ایک دو ماہ میں آپریشنل ہو جائیں گے۔









