لانگ مارچ میں تشدد کا عنصر: وفاقی حکومت کا عمران خان اور محمود خان کے بیانات کا نوٹس

وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ خیبرپختون خوا کے بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان کے بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کریں گے۔

لانگ مارچ میں مبینہ طور پر تشدد کا عنصر سامنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے رانا ثناء اللہ کے سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں ایاز صادق ، قمر الزمان کائرہ ، مولانا اسعد الرحمان اور اعظم نذیر تارڑ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ای سی پی نے پی ٹی آئی پنجاب کے منحرف ارکان کی خالی نشستوں پر انتخابی شیڈول دے دیا

پی ٹی آئی کے 25 منحرف ارکان کی اسمبلی رکنیت ختم، نوٹی فیکیشن جاری

وفاقی وزراء کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ریاست مخالف لانگ مارچ ہوا تو سختی سے نمٹا جائے گا ، گذشتہ لانگ مارچ کے دوران اطلاعات کے مطابق تقریباً 4 ہزار مسلح افراد وفاقی حکومت کی طرف بڑھے تھے۔ مسلح جتھوں نے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا ، جب جتھوں کو روکا گیا تو پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان اور وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان کے بیانات کا نوٹس لے لیا ہے ۔ عمران خان کے کارکنان کو اسلحہ ساتھ لانے کے بیان کا نوٹس وفاقی کابینہ نے بھی لیا ہے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ لاجز کے پی کے ہاؤس میں مسلح افراد کو ٹھہرایا گیا ، ہم نے تمام بلڈنگ مارک کرلی تھیں کہ کس کس جگہ لوگ موجود ہیں ، لانگ مارچ کا مقصد افراتفری پھیلانا ، انکارکی پھیلانا اور اسلام آباد سیل کرنا تھا ، یہ کرمنل ایکٹ ہے جس کی پی پی سی کے تحت سزا ہے ، پارلیمنٹ لاجز میں پورے ملک کے ممبر مقیم ہیں ، ہم انکوائری کررہے ہیں کہ کون سے بلڈنگ میں کون کون سے بیٹھے تھے۔

ان کا کہنا تھا سپریم کورٹ کے حکم پر انہوں حکم ادھولی کرتے ہوئے ڈی چوک جانے کی ٹھان لی ، سپریم کورٹ نے ان کو ایف 9 پارک میں جلسہ کرنے کی اجازت تھی ، سپریم کورٹ میں غلط بیانی اور دھوکہ دہی سے کام لے کر آرڈر جاری کروایا ، لانگ مارچ سے ایک روز قبل مسلح جتھوں کو اسلام آباد پہنچایا گیا۔ عمران خان نے لانگ مارچ کے لیے خیبرپختون خوا حکومت کے وسائل کو استعمال کیا۔

عمران خان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا میں 200 فیصد تسلیم کرتا ہوں کہ آپ یہاں گولی چلوانے کے لیے آئے تھے۔ لوگوں کو میسجز کیئے جارہے تھے کہ ڈی چوک پر پہنچیں۔ عمران خان لوگوں کو بتاتے کہ سپریم کورٹ نے کس جگہ جلسہ کرنے کی اجازت دی ہے۔

متعلقہ تحاریر