عمران خان نے لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے کی وجہ بتا دی
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے ہم نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کردی ہے ، ہم نے ڈیمانڈ کی ہے کہ ہمیں پرامن لانگ مارچ کرنے کے لیے سپریم کورٹ تحفظ فراہم کرے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں جیسے ہی کوئی فیصلہ آتا ہے ہم لانگ مارچ کا اعلان کردیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اللہ کسی کو یہ اجازت ہی نہیں دیتا کہ وہ کہے میں نیوٹرل ہوں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ ان کی جماعت کو پرامن مارچ کی اجازت دی جائے۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لانگ مارچ کا اعلان نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ جب تک ہمیں تحفظ دینے کے حوالے سے سپریم کورٹ کی رولنگ نہیں آتی ہے ، ہم لانگ مارچ کا اعلان نہیں کریں گے۔ ہم سپریم کورٹ سے تحفظ چاہتے ہیں ، پولیس نے طاقت کے زور پر ہمارے کارکنوں پر تشدد کیا ، لانگ مارچ کے شرکاء پر وہ شیل پھینکے گئے جو دہشتگردوں پر پھینکے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا رانا ثناء اللہ لوگوں ڈرا دھمکا رہا ہے کہ میں تم لوگوں کو یہ کر دوں گا وہ کردوں گا، یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ڈر کر گھروں پر بیٹھ جائیں۔
عمران خان کا کہنا تھا اب ہم پوری تیاری اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ نکلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے سیاست نہ سمجھیں یہ جہاد ہے امپورٹڈ اور چوروں کی حکومت کے خلاف۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ ان کی جماعت کو پرامن مارچ کی اجازت دی جائے اور اس دوران ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں اور نہ گرفتاریاں کی جائیں۔آرٹیکل 4 کے مطابق تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔
عدالت عالیہ میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آج اسد عمر کے وکیل علی ظفر ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کو حکم دیا جائے کہ وہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے پر امن احتجاج اور مارچ میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ آئین براہ راست پاکستانی عوام اور ریاست کے درمیان معاہدہ ہے۔ آئین پاکستان عوام کو آزادی، اظہار رائے، برابری، برداشت اور سماجی انصاف کا حق دیتا ہے۔
پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں پرامن احتجاج اور اجتماع کے دوران کارکن اور رہنماؤں کو گرفتار یا ان پر تشدد نہ کیا جائے اور ان کے گھروں پر چھاپے نہ مارے جائیں۔
اسد عمر کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ درخواست میں بتایا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 4، 5، 8 ، 9، 10،14،15 ، 19 شہریوں کوبنیادی حقوق کی ضمانت دیتے ہیں، جنہیں حکومت ختم نہیں کر سکتی۔یہ آئینی شقیں شہریوں کی پرامن نقل و حرکت، جمع ہونے، بولنے اور اظہار رائے کا حق دیتا ہے۔
درخواست میں وزارت داخلہ، آئی جی پولیس اسلام آباد اور صوبائی ہوم سیکریٹریز کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ پُر امن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، پُر امن شہریوں کی گرفتاری یا ان پر تشدد آئین کی شق 9 اور 10 کی خلاف ورزی ہے۔تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف مقدمات آزادی اظہار رائے پر قدغن کے مترادف ہیں۔









