مفتاح اسماعیل نے پیٹرول اور ڈیزل کو امیروں کے استعمال کی شے قرار دے دیا
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے گروتھ لانا مشکل نہیں ہے ، مستحکم گروتھ لانا مشکل ہے ، اور ہم ان شاء اللہ مستحکم گروتھ لے کر آئیں گے۔
مئی کے مہینے میں مہنگائی کی شرح رواں سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، معیشت کی بحالی کے لیے ملک میں دو چیزوں کی اہم بڑھ جاتی ہے سیاست استحکام اور سیاسی یقین دہانی ، جن کا اس وقت میں فقدان ہے۔ لانگ مارچ کی سیاست کسی بھی ملک کی اکانومی کے لیے سود مند نہیں ہوتی ہے، ایسی صورتحال میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا بیان کہ پیٹرول اور ڈیزل تو امیروں کے استعمال کی شے ہے غریبوں کے زخموں پر نمک پاشی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
دنیا کے پروگرام "آن دی فرنٹ” میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے معیشت کی جتنی بری حالت کیوں نہ اب یہ ہماری ذمہ داری کہ اس کو ٹھیک کیسے کرنا ہے ۔ ہم یہ نہیں کہیں گے کہ ہم پیاز اور ٹماٹر کی قیمتیں دیکھنے کے لیے نہیں آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
مہنگائی سے پریشان صارفین کے لیے خوشخبری، ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
آئی کیپ نے حکومت کو کسٹم پوائنٹس سے 250 ارب روپے کمانے کی تجویز دے دی
ایک سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ غلطی کسی کی بھی ہو ، اب یہ ہماری اور ہمارے اتحادیوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم نے عوام کو کیا ریلیف دینا ہے ، یہ بات درست ہے کہ مہنگائی بہت زیادہ ہے۔
پٹرول، ڈیزل زیادہ تر امیر افراد استعمال کرتے ہیں، مفتاح اسماعیل
— Dunya News (@DunyaNews) June 1, 2022
ان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ پیٹرول ایک سو اسی روپے کا ہے ، لیکن میں یہ بات کلیئر کردینا چاہتا ہوں کہ اس وقت بھی حکومت پاکستان 54 روپے فی لیٹر عوام کو ریلیف دے رہی ہے ، یہ کیکولیشن 31 مئی تک کی ہے ، اب انٹرنیشنل مارکیٹ میں تیل مزید مہنگا ہو گیا ہے ، اگر دنیا میں مہنگائی ہورہی ہے تو ہم مکمل طور پر پاکستان کو اس سے الگ نہیں کرسکتے ہیں ، اگر ہم پاکستانی روپے کو مستحکم کرلیتے ہیں تو ہماری کوشش ہو گی کہ افراط زر کو کنٹرول کرلیں۔ اگر ہم مہنگائی کو روک لیتے ہیں پھر ہم عوام کو مزید ریلیف دے سکیں گے۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا جو عمران خان کہتے تھے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے ، مگر جس تیزی سے ان کے دور حکومت میں پیسے کی قدر میں کمی ہوئی ہے وہ دیکھنے والی چیز ہے ۔ اگر خان صاحب چار سالوں میں تین سال تک ایل این جی منگوانا بھول جاتے ہیں تو اس کو آپ انٹرنیشنل مارکیٹ کا قصور نہیں کہہ سکتے ۔ ہم لانگ ٹرم منصوبہ بندی کے تحت سودے لے کر آئے ، اس وقت آپ ہمیں گالیاں دے رہے تھے ، آپ نے مہنگی ایل این جی لی اس میں کسی کا قصور ہے اس میں عمران خان حکومت کا قصور ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا اگر آپ فرنس آئل اور ڈیزل سے بجلی بناتےہیں اور میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہیں ، اس میں اُن کا قصور تھا کسی اور کا قصور نہیں ہے۔ اگر آپ 48 روپے کی چینی ایکسپورٹ کردیتے ہیں اور واپس 96 روپے کی منگواتے ہیں اور چینی پاکستان میں مہنگی ہو جاتی ہے یہ کن کا قصور ہے لازمی بات ہے کہ یہ اُن کا قصور تھا۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب 10.30 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر چھوڑ کر گئے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا گروتھ لانا مشکل نہیں ہے ، مستحکم گروتھ لانا مشکل ہے ، اور ہم ان شاء اللہ مستحکم گروتھ لے کر آئیں گے۔









