چار ماہ میں 1182 مقدمات نمٹائے گئے ، سپریم کورٹ
چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال نے پاکستانی عدلیہ کی انصاف کی فراہمی کے حوالے سے 128ویں رینکنگ کو غلط قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان گزشتہ چار ماہ کے دوران نمٹائے گئے مقدمات کی تفصیلات جاری کردی ہیں ، رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران 1182 کیسز کے فیصلے سنائے گئے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے مقدمات کی تعداد 53 ہزار سے کم ہوکر 52 ہزار رہ گئی ، چار ماہ میں 1182 مقدمات کی کمی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے
سپریم کورٹ کا ای سی ایل ترامیم کو ایک ہفتے میں قانونی دائرے میں لانے کا حکم
ترجمان سپریم کورٹ کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں گزشتہ چار ماہ کے دوران زیر التوا مقدمات کی تعداد میں واضح کمی ہوئی اور اس عرصہ میں 1182 مقدمات نمٹائے گئے۔
سپریم کورٹ میں رواں برس کے پہلے ماہ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 53 ہزار نو سو چونسٹھ تھی ،زیر التوا مقدمات میں کمی سے مقدمات کی تعداد 52 ہزار 796 ہو گئی ہے۔
یکم فروری سے اکتیس مئی تک سپریم کورٹ میں 6 ہزار پانچ سو نو مقدمات کا اندراج ہوا، یکم فروری سے اکتیس مئی تک 7ہزار 691 مقدمات نمٹائے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ میں ہائی پروفائل کیسز میں حکومتی شخصیات کی مبینہ مداخلت کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے عدلیہ کی رینکنگ سے متعلق تنظیم ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی جانب سے پاکستان کی عدلیہ کو انصاف کی فراہمی کے حوالے سے 128ویں رینکنگ دینے کو غلط قرار دے دیا۔
ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کی یہ رینکنگ ڈیٹا کی بنیاد پر نہیں بلکہ تاثر کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کے نظام انصاف کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ پراسیکیوشن کے درست کام نہ کرنے سے نظام انصاف پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔









