الیکشن اور نیب ترمیمی ایکٹ 2022 پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور
وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے انتخابات ترمیمی بل 2022ء ، نیب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کا بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔
الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022ء اور نیب ترمیمی بل 2022ء پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کثرت رائے سے منظور کرلئے گئے۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے انتخابات ترمیمی بل 2022ء پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیے
پنجاب اسمبلی کی پریس گیلری کے انتخابات، جرنلسٹ گروپ نے میدان مار لیا
سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس کے ججز کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی منظوری
اس موقع پر مرتضیٰ جاوید عباسی کہنا تھا کہ صدر مملکت نے انتخابات ترمیمی بل 2022 واپس بھیجا، صدر بلز پر صرف نظرِ ثانی کا کہہ سکتے ہیں، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس صدر کی تجاویز کے بغیر بل منظور کر سکتا ہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے شق وار انتخابات ترمیمی ایکٹ 2022ء کی منظور ی دی اور کثرت رائے سے بل منظور کرلیا۔
منظور کردہ بل کے مطابق بل جو نو منتخب رکن انتخاب کے 120 روز کے اندر حلف نہیں اٹھائے گا اس کی نشست خالی قرار دے دی جائے گی۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رائے دہی کا حق دلانے کے لئے الیکشن کمیشن پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کرے گا جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نشستیں مختص کی جائیں گی۔
جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانی پاکستان کی خوشحالی کے ایجنٹ ہیں۔
سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ 115 ممالک میں 90 لاکھ اوورسیز پاکستانی موجود ہیں، گزشتہ پانچ سال میں اوورسیز پاکستانیوں نے 145 ارب ڈالر کے زرمبادلہ پاکستان بھجوائے، اوورسیز پاکستانیوں کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دینا ہو گی۔
نیب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کا بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں طے شدہ اصول ہے کہ جو الزام لگائے گا وہی ثابت کرے گا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کو نیب قانون بھیجا گیا تھا اس نے بھی بار ثبوت الزام لگانے والے کی ذمہ داری قرار دی، نیب کو سیاسی انجیئرنگ کے لئے استعمال کیا جاتا رہا وجہ اس کی جس پر الزام لگتا اسے ہی ثابت کرنا پڑتا تھا۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ مغرب میں بھی بارثبوت الزام لگانے والے پر ہوتا ہے۔
ٹی آئی کے ارکان سینیٹ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
اجلاس میں ڈاکٹر عامر لیاقت کیلئے دعائے مغفرت کی گئی۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کی خواتین ارکان پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پہنچ گئیں جہاں انہوں نے مہنگائی، ای وی ایم بل اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنےکے خلاف احتجاج کیا۔
خواتین ارکان پارلیمنٹ نے برتن اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔ پی ٹی آئی کی خواتین ارکان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہونے کو کوشش کی تاہم پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے عملے نے بند کردیے تھے۔
جس پر عالیہ حمزہ اور کنول شوزب سمیت کئی خواتین اراکین دروازے پر چڑھ گئیں اور مرکزی دروازہ کھلوالیا۔
اس دوران خواتین ارکان نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ ایسی قانون سازی نہ کی جائے جس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے دوبارہ محروم کردیا جائے۔
پی ٹی آئی رہنما کنول شوزب نے کہا کہ ہم این آر او ٹو نہیں مانگتے اور نہ ہی لینے دیں گے۔ ان کا کہنا تھاکہ اوورسیز کے ووٹوں پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے آئے ہیں۔









