مشرقی وسطیٰ ایک بڑی تبدیلی کی جانب گامزن (دوسری قسط)

مصری فوج نے 2013 میں اخوان المسلمین کی جمہوری حکومت کو ختم کرنے کے لئے طاقت کا مظاہرہ کیا اس نے اُس وقت ملک میں موجود اسلامی سوچ پر پابندی کی مہر ثبت کردی تھی

امریکہ کی جانب سے  مشرقی وسطیٰ سے  ظاہر ہوتی ہوئی عدم دلچسپی  سے ایسے امکانات پیداہوگئے ہیں جیسے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگیں انجام کی طرف بڑھ رہی ہیں،  شام میں نئے آئین کی تیاری اور خونریز جنگ  کے اختتام کےلئے سیاسی حل پر کام شروع ہوتا نظر آرہا ہے جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ امریکا کا شام  میں مزید رہنا اس کے مفادات میں نہیں رہا ہے ، یمن  سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ  حوثیوں  کے ساتھ ہونے والی جنگ پر ثالثی کی  کوششیں تیز کردی گئی ہیں لیبیا میں سیاسی استحکام کےلئے  اقدامات تیزی سے جاری ہیں اورعراق  میں بدامنی  میں بڑی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ سارے اشارے حوصلہ افزا ہیں تاہم میں یہاں صورتحال کو ایک دوسرے زاویےسے دیکھ رہا ہوں۔

arab spring eypt

اس سارے  معاملے میں مشرقی وسطیٰ کےاہم ترین ممالک میں سے ایک اورعرب اسپرنگ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے مصر کی خاموشی معنی خیز ہے، مصراب مشرق وسطیٰ میں نیا میدانِ جنگ بنتا نظرآرہا ہے۔

مصری فوج جو اپنی تشکیل سے ہی عرب ممالک میں سیاسی رجحانات اور خیالات کی قیادت اور حمایت کرتی آرہی ہے یہ مصری فوج ہی ہے جس نے عشروں سے قائم بادشاہت کے تحفظ اور اخوان المسلمین کی جمہوری حکومت  کو ختم کرکے سیکولر ازم کی بحالی میں اپنا کردارادا کیا  اوراب یہ ایک نئے اور خطرناک سیاسی تبدیلی کا سامنا کرسکتی ہے۔

مصری فوج نے جس طرح  2013 میں  ترکی اور قطر کی معاونت سے پروان چڑھنے والی اسلام پسند اخوان المسلمین کی جمہوری حکومت کو ختم کرنے کے لئے قاہرہ کی سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ کیا اس نے اُس وقت ملک میں موجود اس اسلامی سوچ  پر پابندی کی مہر ثبت کردی، اس طرح اسلام پسندوں کی خلافت عثمانیہ طرز کے نظام حکومت کی بحالی کا راستہ روک دیا گیاتاہم  نادیدہ قوتوں کے سبب اسلام پسند اب ایک بار پھر متحدہورہے ہیں۔

جہاں   مصر سمیت خطے کے دیگر ممالک میں میں اخوان المسلمین کے اسلام پسند متحد ہورہے ہیں  وہیں  امریکی عدم دلچسپی کے باعث  دنیا کی دو بڑی طاقتیں روس ،چین اور ترکی خطے میں اپنا اثررسوخ قائم کرنے کےلئے  تیزی سے خطے  میں اپنی  موجودگی کو یقینی بنانے کے اقدامات کررہی ہیں ۔ ایک جانب امریکہ کے مشرقی وسطیٰ میں اپنے کردار کو محدود کرنے سے امریکی حمایت یافتہ  حکومتوں کے قائم رپہنے پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے تو دوسری جانب   داعش سمیت دیگر شدت پسند جماعتوں  کے دوبارہ  طاقت میں آنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

مشرقی وسطیٰ میں اپنی  ساکھ کو مضبوکرنے کے لئے  ایران سے تعلقات کو مستحکم کرنا ایک ضروری امر ہے، ایران نے مشرقی  وسطیٰ میں جس طرح اپنی برتری قائم کی ہوئی ہے اس سے عالمی برادری آگاہ ہے، اسرائیل کی سرگرمیوں کو روکنے کےلئے لبنان کی حزب اللہ ایرانی  حمایت یافتہ ہے ، سعودی عرب کے خلاف برسرپیکار  یمن کے حوثی  ایرانی حمایت یافتہ ہیں ایسے ہیں  مشرقی وسطیٰ کے سب سے اہم ملک شام میں ایک عشرے سے   بشار الاسدکی حکومت کو شامی مزاحمت پسندوں کے خلاف ہرممکناء امداد دینے والا ایران ہی ہے ، ایران کی خطے میں بالا دستی کو چین اچھی طرح سمجھتا ہے ، چین نے ہمیشہ  جنگ کے بجائے معاشی طورپر خود کو مضبوط کرنےکی پالیسی پر عمل درآمد کیا ہے اور آج اپنی اسی پالیسی کے تحت سپر پاور امریکہ سمیت درجنوں ممالک چین کے مقروض ہیں۔

چین نے معاشی بالادستی کو ہتھیاربناتے ہوئے امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ کیا، جس میں تیل اور گیس کی مسلسل ترسیل کے بدلے اگلے 25 سالوں میں 400 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا گیا اس کے فوری بعد چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ترکی ، متحدہ عرب امارات ،ایران ،  سعودی عرب بحرین اور عمان کے دورے کئے اور خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے چین کے کردار کی یقین دہانی کرائی ۔

یہاں اس صورتحال کے دو مختلف ارو خطرناک پہلو نکلتے ہیں، پہلا یہ کہ چین میں دنیا کی سب سے زیادہ غیر مذہبی آبادی ہے، اور چینی حکومت اور حکمران چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) سرکاری طور پر ملحد ہیں اس لئے وہ مذہب کو مانتے ہی نہیں ہیں بلکہ چین میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا ہے وہ ایغور مسلمان چیخ چیخ کر بتارہے ہیں  ایسی صورت میں اگر چین اس خطے پر اپنی بالا دستی قائم کرتا ہے تو اس کے اثرات کیا ہوں گے دوسرا پہلو یہ  کہ  خطے میں موجود اخوان مسلمین کے اسلام پسند جو ایک بار پھر متحد ہورہے ہیں ایسے صورتحال میں چین روس اور ترکی کا تصادم یقینی ہے تو کیا مشرقی وسطیٰ ایک بار پھر  بڑی طاقتوں کے درمیان خانہ جنگی کا مرکز بننے والا ہے ؟..

جاری ہے ۔۔۔۔۔

یہ بلاگ بلاگر کے اپنے خیالات پر مبنی ہے ادارے کا ان کے خیال سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Facebook Comments Box