اسحاق ڈار کی سود کے خاتمے کی خواہش، کیا آئی ایم ایف رضا مند ہوگا ؟

اسحاق ڈار نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان سے سود پر مبنی نظام کو جلد از جلد ختم کرکے اسلامی مالیاتی نظام کا نفاذ کیا جائےتاہم سود پر قرضے فراہم کرنے والا آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی ادارے ربا فری نظام کو قبول کریں گے ؟

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ حکومت سود پر مبنی مالیاتی نظام کو ختم کرکے ملک میں اسلامی مالیاتی نظام کے نفاذ کیلئے پرعزم ہے تاہم اسلامی مالیاتی نظام آئی ایم ایف  کے لیے قابل قبول ہوسکتا ہے ۔

نیشنل اسلامک اکنامک فورم کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ میری خواہش ہے کہ پاکستان سے سود پر مبنی نظام کو جلد از جلد ختم کرکے اسلامی مالیاتی نظام کا نفاذ کیا جائے ۔

یہ بھی پڑھیے

سی ای او”جاز” نے روپے کی قدر میں کمی کو ڈیجیٹل تباہی قرار دے دیا

اسحاق ڈارنے اقتصادی فورم سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں کہا کہ سود جاری رکھ کر اللہ سے کیسے جنگ لڑسکتے ہیں؟۔ میری خواہش اور  دعا ہے کہ اسلامی مالیاتی نظام کا نفاذ ہمارے ہاتھوں سے ہو جائے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اسلامی مالیاتی نظام کے لیے گورنراسٹیٹ بینک کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت مالیاتی نظام کو اسلامی بنیادوں پر چلانے کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔

دوسری جانب انٹر نیشنل مانٹیری فنڈ جوکہ اقوام عالم کو سود کی بنیاد پر قرض فراہم کرتا ہے وہ پاکستان کے اسلامی مالیاتی نظام پر رضا مند ہو سکتا ہے ،اس حوالے سے کیا اعتراضات کیے جا سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف اور دیگر عالمی ادارے اور ممالک جوکہ سود کی بنیاد پر قرم فراہم کرچکے ہیں کیا انہیں معاہدوں کے تحت ادائیگیاں روکی جائیں گی ؟ ۔  آئی ایم ایف کیا با آسانی شریعی  نظام تسلیم کرلے گا ؟

انٹر نیشنل مانٹیری فنڈ کے مطابق اسلامی مالیاتی نظام نے تیزی سے ترقی کی ہے تاہم یہ ابھی بھی عالمی مالیاتی منڈی کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جوکہ ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں نظامی طور پر اہم ہو گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے تقریباً تمام ممالک آئی ایم ایف یا دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے قرض دہندگان نہیں جبکہ پاکستان کی صورتحال ان تمام ممالک سے بر عکس ہے جس پر قرضوں کا بڑا بوجھ ہے ۔

متعلقہ تحاریر