اے کے ڈی سیکیورٹیز نے وزیرخزانہ کی پریس کانفرنس کے اہم نکات جاری کردیے

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے حکومت اور آئی ایم ایف وفد کے درمیان 31 جنوری سے جاری مذاکرات کے خاتمے پر پریس کانفرنس میں قوم کو اعتماد میں لیا تھا۔

اے کے ڈی سیکیورٹیز نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد ہونے والی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی پریس کانفرنس   کے اہم نکات جاری کردیے۔

حکومت اور آئی ایم ایف وفد کے درمیان 31 جنوری سے جاری مذاکرات گزشتہ روز اختتام کوپہنچے تھے جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آئی ایم ایف مشن چیف کی پالیسی سطح کے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کی تصدیق

پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات ختم، معاہدہ نہ ہوسکا، ڈومور کا مطالبہ برقرار

 

اے کے ڈی سیکیورٹیز   کے مطابق وزیر خزانہ نے آج ملک کو آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات میں  طے پانے والے اہم نکات کے ساتھ ساتھ بات چیت کے بارے میں اہم پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔

 وزیرخزانہ نے کہا ہے کہ  آئی ایم ایف سےآج موصول ہونے والے میمورنڈم آ ف اکنامک اینڈ فنانشنل پالیسی(ایم ای ایف پی) پر پیر سے مذاکرات ہوں گے۔حکومت اختتام ہفتہ پر ایم ای ایف پی دستاویز کا جائزہ لے گی، اگلا قدم لیٹر آف انٹینٹ اور ساتھ ہی اسٹاف لیول ایگریمنٹ ہوگا۔

پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کو پورا کرنے کیلیے پرعزم ہے اور جلد 170 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز کے نفاذ کے لیے اقدامات کرے گا جبکہ توانائی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ میں اضافے کو روکنے  کیلیے فوری طور پر اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔

وزیرخزانہ نے کہا ہے کہ حکومت گیس سرکلر کے مستقبل کےنقصات کو روک دے گی تاہم واجبات کی ادائیگی کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا ہے حالانکہ ماضی کا حساب کلیئر ہونا ملک کے مفاد میں ہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ توانائی کے شعبے میں غیر اہدافی چھوٹ کو کم کرنا پڑے گا۔ٹیکس سے متعلق بل پارلیمنٹ سے منظور کرانا ہو گا، ایوان کا اجلاس آج ہو گا۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو 40ارب روپے کے اضافے سے400ارب روپے تک بڑھایا جائے گا۔ڈیزل پر  پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی50 روپے فی لیٹر تک بڑھایا جائے گا (فی الحال  لیوی 35روپے فی لیٹر ہے)۔

 حکومت نے  گردشی قرضوں میں اضافے کو روکنے کے لیے دیگر اضافی اقدامات یعنی گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے پر اتفاق کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے بورڈ سے قسط کی منظوری کے بعدپاکستان کو 1.2ارب ڈالر موصول ہوں گے۔

متعلقہ تحاریر