آئی ایم ایف کے مطالبے پر آج منی بجٹ پارلیمان میں پیش کیا جائے گا
وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبات کو منظور کرتے ہوئے عوام پر مزید 170 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کی مکمل تیار کرلی ہے ، اب عوام بھی مزید پسنے کے لیے تیار ہو جائے۔
منی بجٹ پر صدر مملکت عارف علوی نے حکومت کو آرڈیننس کی بجائے پارلیمنٹ کا راستہ دکھا دیا، حکومت منی بجٹ اب صدر مملکت کی بجائے عوامی نمایندوں سے بل منظور کرائی گی۔ صدر عارف علوی ڈٹ گئے۔ 170 ارب کا منی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش ہوگا۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی صدر مملکت عارف علوی کے سامنے ایک نہ چلی، صدر مملکت نے منی بجٹ لگانے کےلیے اپنا کندھا استعمال کرانے سے انکار کرتے ہوئے، وزیر خزانہ کو پارلیمنٹ کا راستہ دکھا دیا۔
یہ بھی پڑھیے
جنوری 2023 میں گاڑیوں کی فروخت سالانہ بنیاد پر 47فیصد کمی ریکارڈ
اسٹیل کی صنعت تباہی کے دہانے پر ہے، سیکریٹری جنرل واجد بخاری
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں ایوان صدر میں صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات کی لیکن وہ صدر مملکت کو اس بارے میں قائل نہ کرسکے کہ وہ آڑڈیننس پر دستخط کردیں۔ جس کے بعد وفاقی حکومت کے لیے ایک اور مشکل آن پڑی۔
صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بجٹ تجاویز آرڈیننس کی صورت میں نافذ کرنے پر اعتراضات اٹھا دیے، وفاقی حکومت 14 فروی کو ہی آرڈیننس جاری کرکے منی بجٹ نافذ کرنا چاہتی تھی تاکہ آئی ایم ایف سے فوری طور پر قرض پروگرام کے لیے معاہدہ جلد از جلد حتمی شکل اختیار کرسکے۔
صدر مملکت کے اعتراضات کے بعد حکومتی ٹیم غور و خوض میں مصروف ہوگئی اور وزارت قانون آرڈیننس کی بجائے اس کا مسودہ پارلیمنٹ میں لانے کے لیے ہنگامی تیار کرنے لگی۔ تیاری کے بعد مسودے کو فاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے حکومت کا فنانس بل کی پارلیمنٹ سے منظوری کا فیصلہ کیا۔
فنانس بل منظوری کےلیے 15 فروری قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، قومی اسمبلی اور سینیٹ بل کو دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹیاں برائے خزانہ کو بھجوائیں گے، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیاں برائے خزانہ بل پر سفارتشات دیں گی، قواعد کے مطابق کمیٹیوں کی سفارشات پر عمل درآمد کرنا یا نہ کرنا پارلیمنٹ کی صوابدید ہے۔
جمعرات کی صبح تک دونوں ایوانوں کی کمیٹیوں سے فنانس بل کی منظوری کا امکان ہے۔ اسی روز قومی اسمبلی اور سینیٹ سے فنانس بل کی منظوری لی جائے گی۔
جمعرات کی شام کو ہی بل صدر مملکت کو دستخطوں کےلیے بھجوا دیا جائے گا، فنانس کی فوری منظوری کی وجہ آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درامد کرنا ہے۔
فنانس بل کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد آئی ایم ایف سے معاہدے کی راہ میں حال رکاوٹیں دور ہو جائیں گی، فنانس بل میں 170 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کی منظوری لی جائے گی۔ صدر مملکت عارف علوی نے 170 ارب روپے کے ٹیکسز لگانے کے لیے عوامی نمایندوں سے منظوری ضروری قرار دی تھی۔
منی بجٹ یا فنانس بل کے اثرات
1: سیلز ٹیکس کی شرح 17 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ جو پاکستان میں ہر شے کے ریٹ بڑھا دے گا۔
2: سیلز ٹیکس کی ایک فیصد شرح بڑھنے سے 50 ارب سے زائد کا اضافی بوجھ عوام پر آسکتا ہے۔
3: وزیر اعظم کی ہدایت پر پُرتعیش اشیا پر ڈیوٹی کی شرح 25 فیصد تک پہنچانے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے اور اسے بھی فنانس ترمیمی بل یعنی منی بجٹ میں شامل کرلیا گیا یے۔
4: ایک اندازہ ہے کہ لگژری آئٹمز پر ٹیکس لگا کر 60 سے 70 ارب روپے کی آمدن ہوسکتی ہے۔
5: سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی کا فوری نفاذ کردیا گیا، سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی 153 فیصد بڑھا دی گئی ہے۔
پارلیمنٹ سے منی بجٹ دو دن میں منظور کرانے کے لیے حکومتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔
وفاقی حکومت کی پھرتیاں عوام کے لیے مہنگائی کا نیا سیلاب لے کر آئیں گی اور مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لیے نئی مشکلات کھڑی ہوجائیں گی۔









