جون 2023: معاشی مشکلات سے بچنے کیلئے ایک اور آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر ہوگا

معاشی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اب آئی ایم ایف پروگرام کے دوران پالیسی ریٹ میں 200 سے 300 یا پھر 400 بیسز پوائنٹ تک اضافہ کرنا پڑے۔

خطرات در خطرات ، آئی ایم ایف کا پروگرام میں پاکستان میں شرح سود 3 سے 4 فیصد پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جون کے بعد آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کے لیے پاکستان کی حکومت کو مزید کئی مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے۔ پاکستان میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے فیصلوں میں خودمختاری کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید مضبوط ہوگیا

حکومت اخراجات میں 747 ارب روپے کی کمی لاسکتی تھی، ماہرین

پی ڈی ایم حکومت نے پیٹرول بم گراتے ہی عوام کو گیس چیمبر میں بند کردیا

اسٹیٹ بینک کو ایکسچینج ریٹ میں خود مختارانہ فیصلے کرنا ہوں گے۔ مارکیٹ فورسز کے مطابق ایکسچینج ریٹ مقرر کرنا ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کو مانیٹری پالیسی میں بھی خود مختاری دینا ہوگی اور مانیٹری پالیسی کو مہنگائی کے حساب سے سخت سے سخت کرنا ہوگا۔

اسی لیے معاشی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اب آئی ایم ایف پروگرام کے دوران پالیسی ریٹ میں 200 سے 300 یا پھر 400 بیسز پوائنٹ تک اضافہ کرنا پڑے۔

نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے معاشی ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کو رواں مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر کو کم از کم دو ماہ کی امپورٹس کے لیے محفوظ بنانا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت جون تک 3.6 ارب ڈالر کا انتظام کرنا ہے اور اس کے ساتھ دوست ممالک اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز سے بھی مزید 10 سے 11 ارب ڈالر کا اہتمام کرنا ہوگا اور اس کے لیے آئی ایم ایف کو پاکستان کے معاشی اور توانائی کی اصلاحات پر دوست ممالک اور اداروں کو عمل درآمد کی پیش رفت سے آگاہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ تحاریر