پی ڈی ایم حکومت کے 10ماہ میں مہنگائی دگنی اور ترقی کے اشاریے کمزور ہوگئے

پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے وقت پٹرول کی قیمت 150روپے فی لیٹر تھی تاہم پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت نے اسے 272 روپے فی لیٹرتک پہنچا دیا ہے، برآمدات، اسٹاک مارکیٹ، زرمبادلہ کے ذخائر سب کے سب گردش دوراں کا شکار ہوگئے

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی مخلوط حکومت کے ایک سال کے دوران  اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں دو گنا اضافہ ہوا جبکہ معاشی ترقی کے اشاریے بھی کمزور ہوگئے ۔

تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد آنے والی پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت کے ایک سال کے دوران  اشیائے خور نوش کی قیمتوں میں دو گنا اضافہ ہوا جبکہ  ترقی کے اشاریے بھی کمزور پڑگئے۔

یہ بھی پڑھیے

چوروں نے منی بجٹ کے ذریعےعوام پرمہنگائی کا مزید بوجھ ڈال دیا، عمران خان

تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے خاتمے کے وقت پٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر تھی پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت نے اسے272 روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا ہے ۔

پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت اپریل 2022 سے 15 فروری 2023 تک پٹرول کی قیمتوں میں 8 بار اضافہ کر چکی ہے جس سے مہنگائی کی شرح میں خوفناک اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔

تحریک انصاف کے دورحکومت میں85 روپے فی کلو ملنے والا آٹا محض 10 ماہ میں 130 فی کلو تک پہنچ چکا ہے جبکہ چنے کی دال جوکہ 180 روپے کلو دستیاب تھی اب 280 روپے کلو ہوگئی ہے ۔

پی ٹی آئی دورحکومت میں فی کلو کوکنگ آئل 540 روپے میں دستیاب تھا اب اس کی قیمت 650 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ پیاز40 روپے کلو سے 180 روپے کلو تک مہنگا ہوا ہے ۔

ایک سال کے دوران مہنگائی کی شرح ساڑھے 13 فیصد سے تقریباً 27 فیصد ہوگئی ہے جبکہ ایک سال کے دوران شرح سود 12 اعشاریہ 25 فیصد سے بڑھ کر 17 فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔

بڑی صنعتوں کی پیداوار ساڑھے 15 فیصد سے کم ہوکر منفی ساڑھے تین ہوگئی ۔ماہانہ برآمدات بھی 2اعشاریہ 9 ارب ڈالر سے کم ہوکر 2 اعشاریہ 2 ارب ڈالر تک محدود ہوئی ہے ۔

پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت کے ایک سال کے دوران ماہانہ تجارتی خسارہ کم ہوا ۔ پی ٹی آئی دور میں ماہانہ تجارتی خسارہ 3 اعشاریہ 8 ارب ڈالر تھا جوکہ اب 2 اعشاریہ 6 ارب ڈالر ہوگیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

آئی ایم ایف کی امداد بھی پاکستانی معیشت کو پٹری پر نہیں لاسکتی ہے، موڈیز

ایک سال میں ترسیلات زر میں  3 اعشاریہ 1 ارب ڈالر سے کم ہوکر ایک اعشاریہ 89 ارب ڈالر ہوا جبکہ مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے کم ہوکر ساڑھے 8 ارب ڈالر رہ گئے ۔

حصص بازار کا 100 انڈیکس تقریباً 5000 ہزار پوائنٹس گراوٹ کا شکار ہوا ۔ تقریباً ایک سال قبل انڈیکس 46 ہزار کی سطح پر موجود تھا جوکہ اب 41 ہزار کی سطح پر آگیا ہے ۔

پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت کے دوران معاشی ترقی کی رفتار سست ہوئی  جبکہ اس دوران بیرونی سرمایہ کاری میں بھی کمی دیکھی گئی جوکہ  صفر اعشاریہ 8 فیصد سے منفی 5 فیصد تک گرگئی ۔

متعلقہ تحاریر