ڈوبتی معیشت کو سہارا ملے گا ، فوجی قیادت نے تاجر برادری کو یقین دہانی کرادی

ملاقات کے بعد بزنس کمیونٹی کی جانب سے جو مشترکہ رائے سامنے آئی وہ یہ تھی کہ اب معاشی معاملات کو اسحاق ڈار نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ براہ راست دیکھ رہی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے گذشتہ روز پاکستان کی ٹاپ کلاس کاروباری شخصیات سے ملاقات کی۔ جنرل عاصم منیر نے یقین دہانی کرائی کہ حالات مشکل ضرور ہیں مگر سب کچھ برا نہیں ہے ہم مل کر ملک کو مشکل سے نکال لیں گے ، تاہم اس ملاقات کے بعد بزنس کمیونٹی کی جانب سے جو مشترکہ رائے سامنے آئی وہ یہ تھی کہ اب معاشی معاملات کو اسحاق ڈار نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ براہ راست دیکھ رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق تاجر برادری سے ملاقات پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی خواہش پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اجلاس میں شرکت کی تھی۔

پیر کی شب آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ملک کے 10 بڑے تاجروں سے ملاقات کی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی موجودگی میں انہیں یقین دلایا کہ معاشی حالت پہلے ہی سے خراب ہیں ، ملک کے ڈیفالٹ ہونے کے امکان پر قابو پالیا ہے اور ہم بحیثیت مجموعی حالات پر قابو پالیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے بقایا جات 445 ارب روپے سے زائد ہوگئے

ای سی سی اجلاس، انتخابات کے علاوہ تمام کاموں کیلئے فنڈز کی منظوری

ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر پوری ملاقات میں پُرامید دکھائی دیئے اور انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ موجودہ معاشی مشکلات پر قابو پالیا جائے گا۔ انہوں نے تاجر برادری سے کہا کہ وہ اپنی جگہ پر مضبوط اور پُراعتماد رہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خطاب کے دوران جنرل عاصم نے اپنے سامعین کو یقین دلانے کے لیے بار بار اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیا کہ پاکستان موجودہ آزمائش کی گھڑیوں پر کامیابی سے قابو پالے گا۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر ایک بزنس مین کا کہنا تھا کہ تاجروں نے اس میٹنگ کے لیے آرمی چیف سے درخواست کی تھی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو آرمی چیف نے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جسے تاجروں نے انتہائی کامیاب قرار دیا۔

ذرائع کے مطابق آرمی چیف اور وزیر خزانہ نے تاجر برادری کو یقین دہانی کرائی کہ آئی ایم ایف کی تمام پیشگی شرائط پوری کر دی گئی ہیں اور توقع ہے کہ کچھ دنوں میں معاہدہ ہو جائے گا۔

تاجروں کو بتایا گیا کہ زراعت، کان کنی اور آئی ٹی میں سرمایہ کاری کے لیے دوست ممالک سے وعدے کیے گئے ہیں۔ حکومت ان ممالک سے اعلیٰ درجے کی ایکویٹی کی توقع رکھتی ہے۔ آرمی چیف کی جانب سے کہا گیا کہ سول اور عسکری قیادت نے ان وعدوں کو پورا کرنے کے لیے مل کر کام کیا۔

تاجروں نے آرمی چیف کو پیغام دیا کہ قوم کو توقع کررہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بے چینی اور افراتفری کی کیفیت کو کم کرنے میں  اپنا کردار ادا کرے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ آرمی چیف نے کہا کہ فوج اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آرمی چیف اور وزیر خزانہ کے ساتھ ملاقات تاجر برادری کی جو مشترکہ رائے سامنے آئی وہ یہ تھی کہ اب معاشی معاملات کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ دیکھ رہی ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے پر نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بزنس مین کا کہنا تھا کہ یہ ایک طرح سے آرمی چیف کی جانب سے اعلان تھا کہ ڈار صاحب فلاپ ہو گئے ہیں ، اب ہمیں ہی معاملات کو سنبھالنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا آرمی چیف نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ ہم ڈیفالٹ نہیں ہورہے ، تاہم اسحاق ڈار فیل ہو گیا ہے۔

متعلقہ تحاریر