ایکسچینج کمپنیز کو ڈالر خرید کر امپورٹ کی اجازت دی جائے، شبیر منشا کا گورنر اسٹیٹ بینک کے نام خط

ایف پی سی سی آئی نے اسٹیٹ بینک کو موجودہ بحران سے نمٹنے کے لئے اقدامات نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر شبیر منشا کا گورنر اسٹیٹ بینک کو خط، ملکی تاریخ میں کبھی معاشی صورتحال ایسی نہیں ہوئی، تاجر، صنعت کار، ایکسپورٹرز اور امپورٹرز سب ہی آہ و بکا کررہے ہیں۔

فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر شبیر منشا نے  گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کو خط لکھ کر حالات کی سنگینی سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں اضافے کے بعد بچت اسکیموں میں منافع بڑھادیا

سعودی ترقیاتی فنڈ نے مہمند ڈیم کیلیے پاکستان کو 24 کروڑ ڈالر کا قرض دیدیا

ان کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ میں کبھی معاشی صورتحال ایسی نہیں ہوئی۔ ایل سیز کھولنے اور خام مال کلیرنس کرنے کے لیے سہولت دی جائے۔

خط میں لکھا گیا ہے ک درآمدی خام مال کی کلئیرنس کے مسئلے کے حل کے لئے ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔

FPCCI letter

ایف پی سی سی آئی کو مختلف ٹریڈ اور انڈسٹری کی جانب سے شدید پریشر کا سامنا ہے۔ نائب صدر شیبر منشا کے مطابق  موجودہ معاشی صورتحال میں ہنگامی بنیادوں پر اہم اقدامات اٹھانے ہی ہونگے۔ اسٹیٹ بینک کے مختلف اوقات میں درآمدی مال نہ ملنے پر آگاہ کرتے رہے ، لیکن کچھ نہیں کیا گیا۔

شبیر منشا نے کہا کہ ایکسچینج کمپنیز کو ڈالر خرید کر امپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔ ایکسچینج کمپنیز سے امپوٹرز ڈالر خرید کر مال کلیئر کراسکیں گی ، تمام اقسام کی ادائیگی کو 180 سے 365 دنوں کی حد تک کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے خط میں مزید کہا ہے کہ درآمدی خام مال کی اوپن اکاونٹ کی سہولت دوبارہ بحال کی جائے۔ درآمدی مال کا ڈالر خود سے انتظام کرنے پر بینکنگ فنانشل انسٹرومنٹ کی شرط کو ختم کیا جائے۔

خط میں ایف پی سی سی آئی نے اسٹیٹ بینک کو موجودہ بحران سے نمٹنے کے لئے اقدامات نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر