پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا 9واں جائزہ ڈراؤنا خواب بن گیا

9 فروری کو ہونے والا اسٹاف لیول معاہدہ تاحال کٹھائی کا شکار ، 10ویں جائزہ کی تلوار سر پر لٹکنے لگی۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 9واں جائزہ مکمل نہ ہوسکا اور 10 ویں جائزہ کی تلوار لٹکنے لگی، اسٹاف لیول معاہدہ 9 فروری  2023 کو ہونا تھا۔

پاکستان آئی ایم ایف کو منانے اور مطمئن کرنے میں ناکام رہا اور آئی ایم ایف کا اسٹاف لیول معاہدہ پھر تعطل کا شکار ہے۔  9 فروری سے پاکستان اور آئی ایم ایف درمیان اسٹاف لیول معاہدہ ہونا تھا جو اب تک نہیں ہوسکا۔

یہ بھی پڑھیے

رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں حکومت نے 7 ارب 76 کروڑ ڈالر قرض لیا

ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 47.2 فیصد ہو گئی، رپورٹ

آئی ایم ایف کو منانے کے لیے وفاقی حکومت نے تمام پیشگی اقدامات کیے اور خاص طور پر محض 3 ماہ کے لیے عوام پر 170 ارب روپے ٹیکس عائد کردیئے۔ اس سلسلے میں سیکریٹری خزانہ حامد یعقوب، سیکریٹری اقتصادی امور ڈاکٹر کاظم نیاز کا دورہ امریکا بھی بڑی پیش رفت نہ کرسکا۔

واشنگٹن میں پاکستانی حکام نے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی اسپرنگ میٹنگ میں شرکت کی۔ اس موقع پر حکام  اور آئی ایم ایف سے سائیڈ لائن میٹنگز بھی ہوئیں لیکن اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ملی۔

پاکستانی  حکام نے آئی ایم ایف کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فنڈنگ سے متعلق پلان بھی آگاہ کیا اور دوست ملکوں کی جانب سے فنڈنگ کی  یقینی دہانیاں بھی  پیش کیں تاہم آئی ایم ایف اس سے بھی مطمئن نہ ہوا۔ آئی ایم ایف  نے ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید ایک ارب ڈالر کی فنڈنگ کا اہتمام کرنے کی ایک اور شرط عائد کردی۔

پاکستان کو مزید ایک ارب ڈالر کمرشل بینکوں سے جمع کرانے کا پلان دینا پڑا۔ اب صورت حال ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نویں اقتصادی جائزہ کے اہداف اور پیشگی اقدامات پر اب تک اتفاق نہیں ہوسکا اور ایسے میں پاکستان کے لیے نئی مشکل آنے والی ہے کیونکہ اب مئی میں 10 ویں اقتصادی جائزہ کی شرائط کی تلوار آن پہنچی ہے۔

متعلقہ تحاریر