فلور ملز اور سندھ حکومت کے درمیان گندم کی سپلائی بحال کرنے کا معاہدہ طے پا گیا

سندھ حکومت اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے درمیان معاہدےکے بعد فلور ملز مالکان نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

سندھ حکومت اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے درمیان طویل عرصے سے جاری مذاکرات ایک اہم پیش رفت پر اختتام پذیر ہو گئے ہیں، ہفتے کو باضابطہ تحریری معاہدہ طے پا گیا ہے۔

بدھ کو فلور ملز ایسوسی ایشن نے کراچی بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری عامر کے مطابق اس دن سے کراچی میں 92 فلور ملیں بند کر دی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

پی پی سینیٹر وقار مہدی کا ہندو برادری کے مسائل کیلئےایوان بالا میں آواز بلند کرنے کا عزم

سکھر ہمارا شہر ہے ہم سب نے ملکر اس کے مسائل حل کرنے ہیں، غلام مصطفیٰ

چوہدری عامر نے کہا کہ سندھ حکومت نے یوکرین سے درآمد شدہ گندم فلور ملوں کو فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم، پاکستان میں گندم کی آمد اور اس کے بعد ملوں میں تقسیم کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حالات کی روشنی میں ایسوسی ایشن نے ملز بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے مزید انکشاف کیا کہ 20 ملوں کو شدید بحران کا سامنا ہے، اندرون سندھ سے کراچی تک گندم لے جانے میں اضافی مشکلات کا سامنا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ حکومت اور فلور ملز کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی روشنی میں 15 مئی سے ملوں کو روزانہ کی بنیاد پر 0.5 ملین بوری گندم کی فراہمی شروع کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

معاہدے کی شرائط کے تحت سپلائی کی گئی گندم کے معیار کی ایسوسی ایشن اور محکمہ خوراک کے حکام مشترکہ طور پر تصدیق کریں گے۔

متعلقہ تحاریر