پاکستانی معیشت کیلئے نئی مشکل، آئی ایم ایف نے مزید شرائط کی فہرست تھما دی

پاکستان کو مئی اور جون میں مزید 3.7 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے اور اس کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف نے پلان مانگ لیا ہے۔

آئی ایم ایف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کی یقین دہانیوں سے غیر مطمئن، ڈومور کا مطالبہ کردیا۔

پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کے حصول کے لیے مزید مشکلات درپیش ہیں، وزارت خزانہ کے حکام غیریقینی صورت حال سے دو چار ہیں۔ پاکستان کو کتنے ارب ڈالر کا زرمبادلہ دکھانا ہوگا، کوئی نہیں جانتا۔

یہ بھی پڑھیے 

فلور ملز اور سندھ حکومت کے درمیان گندم کی سپلائی بحال کرنے کا معاہدہ طے پا گیا

اسحاق ڈار کی کارکردگی پر سوالیہ نشان؛ بجٹ خسارہ 3.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا

پاکستان کو مئی اور جون میں مزید 3.7 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے اور اس کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف نے پلان مانگ لیا ہے۔

وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف نے ابھی تک حتمی رقم نہیں بتائی، حتمی رقم معلوم نہ ہونے پر وزارت خزانہ دوست ممالک کو اپنی حتمی ڈیمانڈ نہیں بتا پایا۔ حتمی ڈیمانڈ پورا کرکے دوست ممالک کو پاکستان کے زرمبادلہ میں تعاون کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے پابند ہیں۔

پاکستان کو مزید کتنا زرمبادلہ جمع کرنا ہوگا، آئی ایم ایف حکام نہیں بتا رہے۔ حتمی رقم معلوم کرنے کے بعد پیکیج کی صرف ایک شرط پورا ہوگی۔ دیگر شرائط پر بھی آئی ایم ایف نے ابھی حتمی اطمینان کا اظہار نہیں کیا۔

شرائط کی فہرست کے کسی حصے پر اطمینان کا اظہار نہ کرکے پاکستان کو بے یقینی کی صورتحال میں ڈالا گیا ہے۔ سعودی عرب اور امارات نے اب تک 3 ارب ڈالر مزید دینے کا وعدہ کررکھا ہے۔ مزید کتنا زرمبادلہ ملے گا، اس پر بھی وضاحت موجود نہیں۔

پاکستان کو مئی اور جون میں مزید 3.7 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے اور اس کی واپسی کے لیے بھی آئی ایم ایف پلان دینا ہوگا۔

متعلقہ تحاریر