3.7ارب ڈالر کی ادائیگی کاانتظام کرلیا، وزارت خزانہ نے ڈیفالٹ کاخطرہ مسترد کردیا
اتحادی حکومت نے ڈیفالٹ کو ٹال دیا ہے اور معیشت اب استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے، محکمہ خزانہ

محکمہ خزانہ نے ملک کے دیوالیہ ہونے کے خدشات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان نے 3.7 ارب ڈالر کی اگلے دو ماہ میں ادائیگی کے انتظامات کر لیے ہیں۔
محکمہ خزانہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز میڈیا نے ایک خبر چلائی ہے کہ حکومت پاکستان کو جون 2023 کے آخر تک 3.7 ارب ڈالر ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے جو کہ درست ہے تاہم یہ تشویش کا کوئی سبب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس قرض کی واپسی/رول اوور کے لیے انتظامات کر لئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کا شکار ہوگیا
آئی ایم ایف نے پاکستان پر 493 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی کی شرط رکھ دی
محکمہ خزانہ کے مطابق اس عرصے کے دوران اہم رقوم بھی پائپ لائن میں ہیں جو کہ بین الاقوامی ادائیگیوں میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ اتحادی حکومت نے ڈیفالٹ کو ٹال دیا ہے اور معیشت اب استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
واضح رہے کہ جون تک قرضوں کی ادائیگی کا مجموعی حجم مرکزی بینک کے پاس موجود گراس فارن ایکسچینج ریزرو کا 90 فیصد ہے، پاکستان کو چین کو 2.3 ارب ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے، جن میں سے توقع ہے کہ چین ایک ارب ڈالر کا رول اوور دے دے گا جبکہ اسی دوران معقول تعداد میں ڈالر کا انفلو بھی متوقع ہے، جس کی وجہ سے اتحادی حکومت پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچا لے گی۔









