اسٹیٹ بینک نے پانچ بینکوں کو 224 ملین کا جرمانہ کردیا

مرکزی بینک کی جانب سے سب سے زیادہ جرمامہ عسکری بینک لمیٹڈ کو کیا ہے جس کی مالیت 85.14 ملین روپے ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ریگولیٹری خلاف ورزیوں پر 5 کمرشل بینکوں پر 224 ملین روپے کے جرمانے عائد کردیئے۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے 2023 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پانچ کمرشل بینکوں پر بھاری جرمانے عائد کیے ہیں۔

مرکزی بینک نے متعدد ریگولیٹری ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر ان بینکوں پر جرمانے عائد کیے ہیں۔ جن بینکوں پر جرمانہ عائد کیا ان  میں عسکری بینک لمیٹڈ، زرعی ترقیاتی بینک، سونیری بینک لمیٹڈ، سندھ بینک لمیٹڈ، اور موبی لنک مائیکرو فنانس بینک شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے 

نیپرا نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 1 روپیہ 25 پیسے اضافہ کردیا

روس سے سستے تیل کا پہلا کارگو جہاز 27 اور 28 مئی کو پہنچے گا، مصدق ملک

مرکزی بینک کی جانب سے سب سے زیادہ جرمامہ عسکری بینک لمیٹڈ کو کیا ہے جس کی مالیت 85.14 ملین روپے ہے۔ بینک کو ریگولیٹری انسٹرکشنز سی ڈی ڈی ، کے وائی سی ، اسیٹ کوالٹی ، فارن ایکسچینج اور دیگر بینکنگ آپریشنز کے زمرے میں جرمانہ کیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے سندھ بینک کو 55.393 ملین روپے کا جرمانہ کیا گیا۔ بینک کو عام بینکنگ آپریشنز کی خلاف ورزی اور CDD/KYC سے متعلق اہم ہدایات کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیا گیا ہے۔

سنگین فہرست میں تیسرے نمبر پر زرعی ترقیاتی بینک تھا جسے جنرل بینکنگ آپریشنز، CDD/KYC، اور اثاثوں کے معیار سے متعلق خلاف ورزیوں پر 37.263 ملین روپے کا جرمانہ ہوا ہے۔

مرکزی بینک نے CDD/KYC اور اثاثوں کے معیار کی ریگولیٹری ہدایات کی خلاف ورزی پر سونیری بینک کو 27.449 ملین روپے جرمانہ کیا ہے۔

موبی لنک مائیکرو فنانس بینک کو جنرل بینکنگ آپریشنز ریگولیشنز کی عدم تعمیل اور دیگر غلطیوں پر 20.467 ملین روپے جرمانہ کیا گیا۔ بینک کو ریگولیٹری ہدایات کی خلاف ورزی پر اندرونی انکوائری کرنے کی ہدایات بھی ملی ہیں۔

متعلقہ تحاریر