نیپرا نے ظلم کی انتہاکردی: کراچی صارفین کیلئے بجلی کا فی یونٹ مزید 1.44 روپے مہنگا کردیا

نیپرا نوٹی فیکیشن  کے مطابق اضافہ مئی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔ کے-الیکڑک کے لائف لائن صارفین پر اس اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

اہلیان کراچی کے لیے ایک اور بری خبر، کے-الیکٹرک کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 1 روپے 44 پیسے اضافے کی منظوری، اضافے سے عوام پر مزید 2 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ’’ نیپرا‘‘ نے اہلیان کراچی کی  امنگوں کے خلاف کے الیکٹرک کے لیے بجلی کے ریٹ میں ایک روپیہ 44 پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا۔

نیپرا نوٹی فیکیشن  کے مطابق اضافہ مئی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔ کے-الیکڑک کے لائف لائن صارفین پر اس اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

مخلوط کاروباری سیشن کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج فلیٹ پوزیشن پر بند

پی اے سی کے مطالبے پر اسٹیٹ بینک کا پی ٹی آئی دور کے قرضوں کی فہرست دینے سے انکار

کے-الیکٹرک نے ماہ مئی کیلئے قیمت میں 1 روپے 49 پیسے اضافے کی درخواست کی تھی۔ نیپرا اتھارٹی کے الیکٹرک کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرے گی۔

ایک ماہ کیلئے کراچی کے بجلی صارفین پر 2 ارب سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ کے-الیکٹرک کی مہنگی بجلی کی پیداوار کراچی والوں پر اضافی بوجھ بھی ہے کیونکہ  کے-الیکٹرک نے بیرونی ذرائع سے حاصل بجلی کے مقابلے اپنے ذرائع سے 113.52 فیصد مہنگی بجلی پیدا کی۔کے-الیکٹرک نے مئی میں 45 روپے سے زائد تک فی یونٹ میں مہنگی بجلی پیدا کی۔

دستاویزات کے مطابق مئی میں کے-الیکٹرک نے فی یونٹ بجلی اوسط 24 روپے 21 پیسے میں پیدا کی۔ کے-الیکٹرک نے بیرونی ذرائع سے بجلی اوسط 11 روپے 44 پیسے فی یونٹ میں خریدی۔

دستاویزات کے مطابق کے-الیکٹرک نے مئی میں ایل این جی سے فی یونٹ بجلی 45 روپے سے زائد تک میں پیدا کی۔ کے-الیکٹرک نے مئی میں فرنس آئل سے فی یونٹ بجلی 34 روپے 83 پیسے تک میں پیدا کی۔

کے-الیکٹرک نے مئی میں گیس سے 12 روپے 25 پیسے تک فی یونٹ میں بجلی پیدا کی۔ کے-الیکٹرک نے مئی 2023 میں 47 فیصد بجلی اپنے ذرائع سے پیدا کی۔ کے-الیکٹرک نے مئی 2023 میں 53 فیصد بجلی خریدی۔

کراچی میں لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلتے عوام بجلی کے ریٹ مزید مہنگے ہونے پر مزید پریشان ہوگئے ہیں۔ انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کے بل پہلے ہی اتنے زیادہ ہیں کہ ناقابل برداشت ہیں اور ایسے میں مسلسل لوڈشیڈنگ نے جینا محال کر رکھا ہے۔

متعلقہ تحاریر