نائکی باراک اوبامہ کے جوتے 25 ہزار ڈالرز میں فروخت کرے گا
اوبامہ اور چے گویرا سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تھے لیکن سرمایہ دار اپنے فائدے کے لیے ان ہی کا نام استعمال کررہے ہیں۔

کھیلوں کی مصنوعات بنانے والے ادارے نائکی نے سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے لیے ڈیزائن کیے گئے باسکٹ بال کے جوتے 25 ہزار ڈالرز میں فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نائکی نے اوبامہ کو یہ جوتے 2009 میں تحفے میں دیئے تھے۔
آج نائکی نے اپنی ویب سائٹ ‘ساؤتھ بے’ پر باراک اوبامہ کے لیے بنائے گئے جوتوں کی جوڑی فروخت کرنے کے لیے اشتہار لگا دیا ہے۔ جوتوں کی قیمت 25 ہزار ڈالرز ہے جو ایک عام شخص کی پہنچ سے باہر ہے۔
سابق صدر باراک اوبامہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہیں مگر آج ان ہی کا نام استعمال کر کے نائکی جیسا مشہور زمانہ ادارہ لاکھوں ڈالرز کمانے کی کوشش کر رہا ہے۔
نیلامی کے لیے پیش کیا جانے والا جوتوں کا جوڑا بالکل اپنی اصل حالت میں موجود ہے کیونکہ باراک اوبامہ نے انہیں کبھی نہیں پہنا تھا۔
خاص شخصیت کے لیے بنائے گئے جوتے خاص خصوصیات کے حامل ہیں۔ جوتوں پر ابھرے ہوئے الفاظ میں ‘سیل آف دا پریزیڈنٹ آف یونائیٹڈ اسٹیٹ’ لکھا ہوا ہے۔
اس طرح سرمایہ دارانہ نظام کی دنیا میں کاروباری طبقہ ‘مارکسسٹ چے گویرا’ کا نام استعمال کرتا ہے تاکہ ان کی مصنوعات زیادہ سے زیادہ قیمت میں فروخت ہوسکیں۔

یہ بھی پرھیے
کیا کوون جون مستقبل کے وارین بوفیٹ بن پائیں گے؟
مارکسسٹ چے گویرا سرمایہ دارانہ نظام کے سخت مخالف تھے کیونکہ وہ خود مارکسسٹ کے پیروکار تھے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک مارکسسٹ کی تصویر ایک سرمایہ دارانہ شے بن گئی ہے۔
سرمایہ کاری کی دنیا میں ہر وہ شے جو مصنوعی طریقے سے بنائی جاتی ہے اس پر ‘چے گویرا’ کی مشہور تصویر چھاپ دی جاتی ہے۔









