‘ملازمت سے ضروریات پوری ہوتی ہیں لیکن خواہشات نہیں’

ملائیشیا سے تعلیم یافتہ نوجوان نے پاکستان واپس آکر موبائل کافی شاپ کھول لی ہے۔

 ملائشیا سے ہوسپٹیلیٹی اینڈ ٹورازم میں ڈگری حاصل کرکے آنے والے لاہور کے نوجوان نے بالآخر موبائل کافی شاپ کھول لی ہے جسے لاہور میں خاصی پذ یرائی حاصل ہو رہی ہے۔

آج دنیا بھر کے لوگ ملازمت کی بجائے اپنے کام کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ اپنا کاروبار شروع کرنے کا آئیڈیا سب سے زیادہ فروغ پارہا ہے۔ کاروبار شروع کرنے کی سب سے اہم وجہ ترقی کے بے پناہ مواقع اور آزادی کا احساس ہے جو کہ ملازمت کرتے ہوئے کبھی میسر نہیں آسکتی۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے قدیمی علاقے گوالمنڈی کے رہائشی آغا علی نے ملائیشیا سے مینیجمنٹ آف ہوسپٹیلیٹی اینڈ ٹورازم میں چار سالہ ڈگری پروگرام مکمل کیا ہے اور پاکستان واپس آکر کافی ریسٹورنٹ میں بطور سیلز مین نوکری شروع کی۔

نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے آغا علی نے کہا کہ ‘نوکری سے انسان اپنی ضروریات پوری کرسکتا ہے لیکن خواہشات نہیں۔ اسی سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنا کاروبار شروع کیا۔’

آغا علی نے بتایا کہ لاہور کے مشہور علاقے اقبال ٹاؤن پر ‘کافی ٹی’ کے نام سے ریسٹورنٹ شروع کیا لیکن کرونا وباء کی وجہ سے کام نہیں چل سکا۔ حالات ایسے آگئے کہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا۔ چونکہ میں نوکری تو کرنا نہیں چاہتا تھا اس لیے چھوٹا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’15 سے 20 دن کا ہوم ورک مکمل کر کے موبائل کافی شاپ بنانے کا فیصلہ کیا۔ میرے پاس گاڑی موجود تھی اور سامان بھی، 6 روز قبل میں نے اپنا کام شروع کیا۔’

یہ بھی پڑھیے

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے خوشخبریاں

آغا علی نے کہا کہ ‘مین بلیوارڈ گلبرگ پر انٹرنیشنل برانڈ کی موجودگی اور سڑک پر ہونے کے باوجود گاہک آرہے ہیں۔ بڑے بڑے ریسٹورنٹس کے لوگ یہاں آ کر مناسب قیمت پر معیاری کافی پی رہے ہیں۔’

موبائل کافی یونٹ کتنی رقم کے عوض شروع ہوا؟

آغا علی نے بتایا کہ ‘یہ کام 6 سے 7 لاکھ روپے میں شروع ہوجاتا ہے۔ معیاری کافی بنانے کے لیے جدید مشینری اور معیاری سامان کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تھوڑا مہنگا کام ضرور ہے مگر لوگ کوئی بھی ایسا موبائل یونٹ کم پیسوں میں شروع کرسکتے ہیں۔’

موبائل یونٹ کافی کے مالک آغا علی نے مزید کہا کہ ‘اس وقت بین الاقوامی معیار کی کافی 400 سے 1 ہزار روپے میں دستیاب ہے جبکہ میں وہی معیار اور وہی مقدار میں بہت مناسب قیمت میں فراہم کررہا ہوں۔’

Facebook Comments