پشاور میں انٹرنیٹ کی بندش سے موبائل کا کاروبار ٹھپ

انٹرنیٹ کی بندش سے واٹس ایپ، فیس بک سمیت دیگر ایپس کی سروس نہ ہونے کی وجہ سے اطلاعات تک رسائی ناممکن ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت میں گذشتہ 5 دنوں سے انٹرنیٹ کی بندش سے موبائل فونز کا کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ اینڈروائیڈ موبائل کے صارفین کا کہنا ہے کہ جب انٹرنیٹ نہیں ہے تو مہنگے موبائل خرید کر کیا کریں گے۔

خیبرپختونخوا کی حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے پرتشدد مظاہروں اور احتجاج کی وجہ سے صوبے بھر میں اور خصوصاً پشاور میں 5 روز قبل انٹرنیٹ سروس معطل کی تھی۔

انٹرنیٹ کی بندش سے ایزی پیسہ کے صارفین شدید پریشانی کاشکار ہیں جبکہ ایزی لوڈ نہ کرائے جانے کی وجہ سے ملک کی چاروں سیلولرز کمپنیز (جیز، ٹیلی نور، زونگ، یوفون) کو ریچارج نہ ہونے کی وجہ سے اربوں روپے کا نقصان کا سامنا ہے۔

یہ بھی پرھیے

پاکستان میں 2024 تک کے بجٹ کیا ہوں گے؟

نیوز 360 کی نامہ نگار سے بات چیت کرتے ہوئے صحافی برادری کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی بندش سے واٹس ایپ، فیس بک سمیت دیگر ایپس کی سروس نہ ہونے کی وجہ سے اطلاعات تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔

نیوز 360 کی نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے ایک شہری کا کہنا تھا کہ پورے شہر کو اندھیروں میں رکھ کر کونسی رٹ قائم کی جارہی ہے۔ جب سعد رضوی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا تو نیٹ کی بندش بھی ختم ہونی چاہیے ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ یہ کونسی حکمت عملی ہے کہ نیٹ کو بند کیا جائے، تاکہ احتجاج ختم ہوجائے؟ ایک جماعت نے پورے ملک کی عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے سب کچھ بگڑرہاہے، لگتا ہے اب نیٹ بندش کے خلاف احتجاج شروع کرنا پڑے گا۔؟

نیوز 360 کی نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے طالب علموں کا کہنا تھا کہ نیٹ کی بندش کی وجہ سے آن لائن کلاسز شدید متاثر ہورہی ہیں۔ آن لائن پرچے کیسے حل کریں گے؟ تعلیمی ادارے بند ہیں، نیٹ بند ہے ھم کیا کریں؟ نیٹ کب بحال ہوگا، کسی کو پتہ نہیں ہے۔؟

متعلقہ تحاریر