پاکستان میں ٹیکس کے ہدف کا حصول اور برآمدات میں اضافہ

رواں مالی سال کے جولائی سے اپریل تک 7 ہزار 780 ارب روپے کے محصولات وصول ہوئے ہیں جو کہ گذشتہ مالی سال کی نسبت 14 فیصد زیادہ ہیں۔

پاکستان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال 2020-21 کے اپریل کے مقررہ کردہ ہدف کو عبور کرتے ہوئے 3 ہزار 700 ارب روپے سے زیادہ کے ٹیکس محصولات حاصل کر لیے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ ’2011 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب مسلسل 7ویں مہینے برآمدات 2 ارب ڈالرز کی حد سے تجاوز کر گئی ہیں۔‘

ایف بی آر نے رواں مالی سال 2020-21 کے جولائی سے اپریل تک 3 ہزار 780 ارب روپے کے محصولات وصول کرلیے ہیں جو کہ گذشتہ مالی سے 14 فیصد زیادہ ہیں۔ ایف بی آر نے رواں سال صرف اپریل کے مہینے میں اپنے مقررہ کردہ ہدف 242 ارب روپے کے مقابلے میں 384 ارب روپے کے محصولات حاصل کیے ہیں جو کہ گذشتہ مالی سال کے اپریل کے مہینے میں جمع ہونے والی آمدنی سے 57 فیصد زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پیٹرول کی قیمت نا بڑھانے سے حکومت کو نقصان کیوں ہوگا؟

ایف بی آر نے مالی سال 2020-21 میں جولائی سے اپریل تک مجموعی طور پر 3 ہزار 976 ارب روپے کے محصولات اکٹھے کیے تھے تاہم حکومتی پالیسی کے مطابق ٹیکس فائلر کو محصولات کی مد میں 195 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈ بھی کیے گئے ہیں۔

ایف بی آر کے مطابق مالی سال 2020-21 میں انکم ٹیکس گوشواروں کی تعداد 20 لاکھ 90 ہزار ہوگئی ہے جبکہ گذشتہ مالی سال کے دوران یہ تعداد 20 لاکھ 60 ہزار تھی۔ یعنی انکم ٹیکس گوشواروں میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی کسٹم حکام نے رواں مالی سال 2020-21 کے پہلے 10 ماہ میں ڈیوٹی کی مد میں 606 ارب روپے وصول کیے ہیں۔ جبکہ رواں مالی سال کے لیے 507 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

ایف بی آر ٹیکس
Times of Islamabad

کسٹم حکام کے مطابق رواں مالی سال کے اپریل کے مہینے میں کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 65 ارب روپے اکٹھے کیے گئے ہیں جبکہ مقررہ ہدف 59 ارب روپے تھا۔ اس طرح اپریل میں مقررہ ہدف سے 10 فیصد زیادہ وصولی کی گئی ہے۔

کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ اپریل 2021 میں اسمگلنگ کی مد میں ضبط ہونے والے سامان کی مالیت 4 ارب 54 کروڑ روپے بنتی ہے۔ جبکہ اپریل 2020 میں ضبط ہونے والے سامان کی مالیت 3 ارب 43 کروڑ روپے تھی۔

اس کے علاوہ جولائی 2020 سے اپریل 2021 کے دوران اسمگلنگ کی مد میں ضبط شدہ سامان کی مالیت 48 ارب 55 کروڑ روپے بنتی ہے۔ گذشتہ مالی سال 2019-20 کے اسی عرصے کے دوران اسمگل شدہ سامان کی مالیت 31 ارب روپے تھی۔

وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری ڈاکٹر عبدالرزاق داؤد نے ٹوئٹر پر جاری پیغام میں لکھا ہے کہ رواں مالی سال 2020-21 کے اپریل کے مہینے میں پاکستانی برآمدات 2 اعشاریہ 191 ارب ڈالرز رہی ہیں۔2011 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب مسلسل 7ویں مہینے برآمدات 2 ارب ڈالرز سے تجاوز کر گئی ہیں۔

عبدالرزاق داؤد کے مطابق رواں مالی سال کی برآمدات پچھلے مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 18 اعشاریہ 408 ارب ڈالرز کے مقابلے میں 13 فیصد اضافے سے 20 اعشاریہ 879 ارب ڈالرز ہو گئی ہیں۔

متعلقہ تحاریر