شوکت ترین کا عمران خان کی معاشی پالیسیز سے یو ٹرن

شوکت ترین نے کہا ہے کہ ’جی ڈی پی گروتھ کو 5 فیصد تک نہ لائے تو 4 سالوں تک ملک کا اللہ حافظ ہے۔‘

وزیر خزانہ شوکت ترین نے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کی معاشی پالیسیز پر سخت تنقید کی ہے جس کو وزیر اعظم نے 2018 میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ہی متعارف کروانا شروع کردیا تھا۔

پیر کے روز فیض اللہ کاموکا کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف نے ناانصافی کی ہے۔ اُس کا بجلی کے ٹیرف کو بڑھانے کا مطالبہ ناجائز ہے۔ معیشت کا پہیہ چل نہیں رہا اور ٹیرف بڑھانے سے کرپشن بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں ٹیکس کے ہدف کا حصول اور برآمدات میں اضافہ

انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی گروتھ کو 5 فیصد تک نہ لائے تو 4 سالوں تک ملک کا اللہ حافظ ہے۔ بجلی کے ٹیرف پر آئی ایم ایف کے ساتھ بات کرنا انتہائی ضروری ہے۔ آئی ایم ایف سے گردشی قرضہ کم کرنے کا کہا ہے لیکن ٹیرف بڑھانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ آئی ایم ایف کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ محصولات میں 2 ماہ سے اضافہ ہورہا ہے۔ معیشت کی بحالی اور استحکام کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے اور نئے ٹیکسز کے بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا ہوگا۔

BBC

شوکت ترین نے مزید کہا کہ زراعت، صنعت، پرائس کنٹرول اور ہاؤسنگ سیکٹر میں بہتری کی ضرورت ہے۔ ہاؤسنگ سیکٹر کی بحالی سے 20 دیگر صنعتوں کا پہیہ چلے گا۔ جن اداروں کو حکومت نہیں چلا سکتی ان کی نجکاری کردی جائے گی۔

اس بیان سے ظاہر ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے وزیراعظم عمران خان کی معاشی پالیسیز کو مسترد کردیا ہے۔ جولائی 2019 میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ تھے تو آئی ایم ایف اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 6 بلین ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکیج پر اتفاق کیا تھا۔

آئی ایم ایف

یہ آئی ایم ایف کا 13 واں پروگرام تھا جس کا فائدہ پاکستان نے اٹھایا تھا۔ عالمی مالیاتی ادارے نے ای ایف ایف (ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی) پیکج کے 39 ماہ کے عرصے میں 37.359 ارب ڈالرز کے برابر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے ٹیکس میں اضافے پر زور دیا تھا۔

آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان کچھ معاملات پر اختلاف پر ایک سال تک کے لیے یہ پروگرام روکنے کے بعد مارچ 2021 میں پاکستان کو 500 ملین ڈالرز کی قسط جاری کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ بجلی کے نرخوں میں زبردست اضافے، 140 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کو ایک خودمختار ادارے میں تبدیل کرنے کی شرط پر قسط جاری کی گئی تھی۔

متعلقہ تحاریر