نئے کرنسی نوٹوں کی بلیک میں فروخت

زیادہ قیمتوں میں فروخت ہونے والے نئے کرنسی نوٹوں میں 10، 20، 50 اور 100 روپے کے نوٹوں کی کاپیاں شامل ہیں۔

کرونا کی وباء کے پھیلاؤ کے پیش نظر پاکستان میں مسلسل دوسرے سال بھی نئے کرنسی نوٹ جاری نہیں کیے گئے ہیں تاہم عیدالفطر پر نئے نوٹوں کی بلیک میں فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں عید الفطر کے موقع پر نئے کرنسی نوٹ بلیک میں فروخت ہورہے ہیں۔ ایک طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے نئے نوٹوں کا اجراء نہیں کیا گیا ہے تو دوسری جانب اسٹیٹ بینک لاہور کی عمارت کے ساتھ ہی نئے نوٹ (یعنی نیا کیش) مہنگے داموں میں فروخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ زیادہ قیمتوں میں فروخت ہونے والے نئے کرنسی نوٹوں میں 10، 20، 50 اور 100 روپے کے نوٹوں کی کاپیاں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مہنگائی بڑھنے کی شرح، 14 ماہ کی بلند ترین سطح عبور

نئے کیش کی قیمتیں

10 روپے کے نوٹوں کی کاپی کی قیمت 1 ہزار بنتی جو کہ اضافی 250 وصول کرتے ہوئے 1250 روپے کی فروخت کی جارہی ہے۔ 20 روپے کے نوٹوں کی کاپی کی قیمت 2 ہزار بنتی ہے مگر 300 روپے اضافی وصول کرتے ہوئے 2300 روپے کی فروخت کی جارہی ہے۔

اسی طرح 50 روپے کے نوٹوں کی کاپی 5000 کے بجائے 300 روپے اضافی قیمت کے ساتھ 5300 روپے کی فروخت کی جارہی ہے۔ جبکہ 100 روپے نوٹوں کی کاپی کی اصل قیمت 10000 کی بجائے 300 روپے اضافے کے ساتھ 10300 روپے کی فروخت کی جارہی ہے۔

شہریوں کا مؤقف

پاکستان میں عیدین کے موقع پر نئے نوٹوں سے عید دینے کا رواج معمول ہے اور بچوں کو بھی عید کے موقع پر نئے نوٹوں کی عیدی وصول کرنا پسند ہوتا ہے۔ شہریوں نے نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے اس سال بھی نئے نوٹوں کا اجراء نہیں کیا ہے۔ مجبوراً زیادہ قیمت پر بلیک میں نیا کیش لے رہے ہیں کیونکہ بچے عیدی نئے نوٹوں میں لیتے ہیں۔

ایک شخص نے کہا کہ جب ہم چھوٹے تھے تو ہمیں بھی اچھا لگتا تھا کہ نئے نوٹ عید پر ملیں۔ اسی طرح آگے بچوں کو بھی نئے نوٹوں میں عیدی دینے کے لیے خریداری کر رہے ہیں۔

ایک شہری نے نئے نوٹوں کے بلیک میں ملنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے نئے نوٹوں کا اجراء نہیں کیا تو اسٹیٹ بینک کی عمارت کے ساتھ ہی کیسے نیا کیش فروخت ہورہا ہے؟

ایک اور شہری نے اس عمل کو ضلعی انتظامیہ کی ناکامی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سرعام بلیک میں کیش فروخت کیا جارہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ یہ کام اسٹیٹ بینک کے عملے کی ملی بھگت سے ہورہا ہے۔

کیش فروخت والے کے انکشافات

نئے کرنسی نوٹ فروخت کرنے والے نواز نامی شخص نے نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو اپنے بچوں کے لیے مزدوری کر رہے ہیں۔ ہمیں بھی نیا کیش مہنگے داموں میں ملتا ہے۔ یہ کام اسٹیٹ بینک کی ملی بھگت سے سالہا سال چلتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اپنے لوگ ہی یہ کیش خود بیوپاریوں کو بیچتے ہیں اور ان سے ہم خرید کر آگے فروخت کرتے ہیں۔ لاہور میں اسٹیشن اور نیو انارکلی کے قریب بیوپاری موجود ہیں جو پورا سال نیا کیش خریدتے اور بیچتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کا جاری کردہ بیان

اسٹیٹ بینک نے کرونا کی عالمی وباء کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عیدالفطر پر مسلسل دوسرے سال بھی نئے نوٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عید الفظر پر عوام کے لیے نئے نوٹوں کا اجراء نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کرونا کی وباء سے قبل اسٹیٹ بینک عید کے موقع پر نئے کرنسی نوٹ جاری کرتا تھا۔ گذشتہ سال بھی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کے پیش نظر نئے نوٹوں کا اجراء نہیں کیا گیا تھا۔

متعلقہ تحاریر