شوکت ترین حکومتی معاشی پالیسیز پر الجھن کا شکار

وزیر خزانہ شوکت ترین نے پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیز کو سراہا ہے جبکہ چند ہفتے قبل تنقید کی تھی۔

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی معاشی پالیسیز کی تعریف کی ہے، جبکہ چند ہفتے قبل انہوں نے اس پر تنقید کی تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بظاہر شوکت ترین خود الجھن کا شکار ہیں یا پھر انہیں  غلط اعداد و شمار بتائے جارہے ہیں۔

منگل کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی معاشی پالیسیز کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ مستقبل قریب میں معیشت میں وسیع پیمانے پر بہتری آئے گی۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی کا شرط لگا کر کرتب

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے لکھا کہ آئی ایم ایف کے سخت پروگرام کے باوجود مضبوط معاشی ترقی خوش آئند ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، زر مبادلہ کے کم ہوتے ہوئے ذخائر اور کرونا کی وباء کے باوجود معاشی ترقی قابل قدر ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے حکومتی معاشی پالیسیز کی تعریف نے سب کو حیران کردیا ہے۔ ناقدین خیال ہے کہ شوکت ترین کو غلط اعداد و شمار بتائے جارہے ہیں یا پھر وہ خود الجھن کا شکار ہیں۔

وزیر خزانہ نے تقریباً 3 ہفتے قبل وزیراعظم پاکستان عمران خان کی معاشی پالیسیز پر سخت تنقید کی تھی۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان 2018 کے آغاز سے اب تک اپنی معاشی ٹیم اور ان کی معاشی پالیسیز کی تعریفیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس سے اپنے پہلے خطاب کے دوران شوکت ترین نے ملک میں جاری معاشی پالیسیز پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں مختصر، درمیانی یا طویل مدتی پالیسیز پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

شوکت ترین نے چین، انڈیا اور ترکی کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ممالک اس لیے ترقی کررہے ہیں کیونکہ وہ طویل مدتی معاشی پالیسیز پر کاربند ہیں۔

متعلقہ تحاریر