بنگلا دیش مستقبل میں نیا ایشین ٹائیگر بن سکتا ہے؟

بنگلا دیش کرونا کے اس مشکل ترین وقت میں انڈیا اور سری لنکا کو مدد فراہم کررہا ہے۔

کرونا سے بچاؤ مہم میں بنگلا دیش نے جس طرح پڑوسی ممالک کی مدد کی وہ قابل تعریف ہے۔ معاشی طور پر خود کو مستحکم رکھنے والا بنگلا دیش اسی رفتار سے معاشی ترقی کی منازل طے کرتا رہا تو مسقبل قریب میں نیا ایشین ٹائیگر کہلایا جاسکتا ہے۔

کرونا کے اس مشکل ترین دور میں جہاں بڑے بڑے ممالک معاشی تنگی کا شکار ہوئے وہیں یہ ایشیائی ملک ایک ابھرتی ہوئی طاقت بن کر دنیا کے سامنے آیا۔

 بنگلا دیش کی جانب سے انڈیا کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کے لیے خام مال مہیا کرنے کی پیشکش کی گئی ہے اور یہ ان 40 ممالک میں شامل ہے جنہوں نے انڈیا کے اسپتالوں میں کرونا سے بچاؤ کے لیے ادویات اور آلات بھجوائے۔

یہ بھی پڑھیے

نیپال میں کرونا کی بگڑتی صورتحال نظرانداز

صرف یہی نہیں بنگلا دیش سری لنکا کو بھی اس مشکل وقت میں مدد فراہم کررہا ہے۔  قرضوں کے بحران سے نجات دلانے کے لیے بنگلا دیش سری لنکا کو 200 میلن ڈالر یعنی 20 کروڑ ڈالر کی کرنسی تبدیلی کی سہولت مہیا کررہا ہے۔

رواں مالی سال کے آخر تک سابقہ مشرقی پاکستان  کی معاشی شرح نمو 5.8 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ملک اسی رفتار سے چلتا رہا تو 2030 میں وہ ایک اہم معاشی گڑھ بن سکتا ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 2010 میں بنگلا دیش کے غیر ملکی ذخائر 9 ارب ڈالر تھے جوکہ 2021 میں بڑھ کر 45 ارب ڈالر تک جاپہنچے ہیں۔

متعلقہ تحاریر