پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل بینک کا آغاز رواں ماہ

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کے مطابق ڈیجیٹل بینکس کی تشکیل سے بینکنگ کی صنعت کو فروغ حاصل ہوگا۔

پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل بینک ’ٹیگ انوویشن پرائیویٹ لمیٹڈ‘ رواں ماہ اپنے کام کا آغاز کردے گا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رضا باقر نے پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ کا خیرمقدم کیا ہے۔

امریکی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جہاں ٹیگ انوویشن پرائیویٹ لمیٹڈ اپنا پہلا ڈیجیٹل بینک کھولنے جارہا ہے۔ پاکستان کے 70 فیصد بالغ افراد کا بینک اکاؤنٹ بھی نہیں ہے۔

ٹیگ انوویشن پرائیوٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طلال گوندل نے بلوم برگ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ فِن ٹیک اسٹارٹ اپ ابتدائی طور پر اسلام آباد میں محدود تعداد میں صارفین سے اپنے کام کا آغاز کرے گا۔ تاہم 2 سے 3 ماہ میں تجارتی بنیادوں پر کام شروع کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

برآمدات اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں اضافہ

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل بینک شروع کرنے کا مقصد ابتدائی چند سالوں میں لاکھوں صارفین تک اس خدمت کو متعارف کرنا ہے۔

تجارتی خبروں کی تفصیلات فراہم کرنے والے بین الاقوامی ادارے کرنچ بیس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ٹیگ انوویشن پرائیویٹ لمیٹڈ نے مارکیٹ میں قدم رکھنے سے قبل مالی اعانت کے لیے 55 لاکھ ڈالرز اکٹھے کیے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے مشرق وسطی، افریقہ اور پاکستان میں کیے گئے 5 بڑے معاہدوں میں سے یہ ایک بڑا معاہدہ ہے۔ جو فنڈ جمع ہوا ہے اس کی نگرانی کوائٹ کیپیٹل مینجمنٹ، لبرٹی سٹی وینچرز اور فاطمہ گوبی وینچریس کریں گے۔

ٹیگ انوویشن اپنے شراکت داروں اینڈریسن ہارووٹز، کھوسلا وینچرز، کنان پارٹنرز اور مرکیوری عماد اخوند سے حکمت عملی طے کرنے میں اعانت حاصل کرے گا۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں میں سہولت فراہم کرنے والی ایک انڈین کمپنی اسٹاٹ اپ ریزرپے نے رواں سال اپریل میں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز کی رقم اکٹھی کرلی ہے۔ دوسری جانب ڈیجیٹل ادائیگیوں میں سہولت فراہم کرنے والے مصری ڈیجیٹل بینکنگ ایپ ٹیلڈا نے گزشتہ ماہ 50 لاکھ ڈالرز کی رقم اکٹھی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 10 کروڑ بالغ افراد بینک اکاؤنٹس نہیں رکھتے ہیں۔

انٹر مارکیٹ سکیورٹیز کے چیف ایکیوٹیز رضا جعفری کے مطابق پاکستان کی تقریباً 70 فیصد آبادی بینک اکاؤنٹ نہیں رکھتی ہے۔ بینک صارفین کی ایک بڑی تعداد طویل دستاویزات کے عمل اور اکاؤنٹ کھولنے کے دوران بار بار بینک برانچز کے چکر لگانے کی شکایت کرتی دکھائی دیتی ہے۔

دوسری جانب ان مشکلات کو کم کرنے کے لیے چیف ایگزیکٹو آفیسر طلال گوندل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بینکنگ کا نظام بہت پچیدہ ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کچھ بینکوں میں بینکاری ایپ بھی موجود نہیں ہے، یہ تاثر اچھا نہیں ہے۔ ٹیک انوویشن کا حصہ بننے کے لیے ہمیں صرف صارفین کے شناختی کارڈ کی ایک فوٹو کاپی اور ایک سیلفی کی ضرورت ہوگی۔ جس کے بعد 3 منٹ کے اندر صارف کا کھاتہ کھل جائے گا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2020 میں اسٹارٹ اپ کو ڈیجیٹل بینک کا لائسنس جاری کیا تھا جس کا مقصد صارفین کو بینکاری خدمات، آن لائن شاپنگ اور ڈیبٹ کارڈ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رضا باقر نے رواں برس اپریل میں پاکستان میں ڈیجیٹل بینکس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈیجیٹل بینکس کی تشکیل سے بیکنگ کی صنعت کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔

متعلقہ تحاریر