گورنر اسٹیٹ بینک نے 300 ارب کا نقصان پہنچایا، سلیم مانڈوی والا

سلیم مانڈوی والا کے مطابق دو سال کے دوران 750 ارب روپے اضافی ٹیکسز کے باجوود ٹیکس محصولات میں کمی ہوئی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان رضا باقر نے شرح سود 13.5 فیصد کر کے ملکی خزانے کو 300 ارب روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ نیب کی کاروباری سرگرمیوں میں مداخلت سے ملکی کاروباری صورتحال انتہائی خراب ہے۔

اسلام آباد میں پری بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ عالمی مالیت ادارے (آئی ایم ایف) نے شرح سود 12 فیصد کرنے کے لیے کہا تھا مگر گورنر اسٹیٹ بینک نے 13.5 فیصد کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

بجلی ہونا یا نہ ہونا دونوں ہی دردسرد

انہوں نے کہا کہ ملک ایک سنگین بحران کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ صوبہ سندھ اور پنجاب میں پانی کی قلت ہے۔ ابھی تک صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کوئی کام نہیں ہوسکا ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود آج ہم زرعی اجناس درآمد کر رہے ہیں۔ ٹیکس محصولات آج 2013 کے مقابلے میں کم ہیں۔ 2020-21 میں گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ (جی ڈی پی) کی نمو میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ اس وقت خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ جی ڈی پی میں 90 فیصد کی کمی واقع ہوگی۔

گورنر اسٹیٹ بینک
Dawn

سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ گزشتہ 2 سالوں میں 750 ارب روپے کے ٹیکسز کے باوجود ٹیکس محصولات میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ یہ تمام ٹیکسز آرڈیننس کے ذریعے لگائے جارہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے برآمدات کی شرح نمو میں اضافہ کیا تھا۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے ایک بار پھر شرح نمو کم کردی ہے۔ یہ حکومت برآمدات میں اضافہ کرنے کا طریقہ نہیں جانتی ہے۔ پاکستان کا سرکلر قرض دو سالوں میں 2.3 کھرب تک جا پہنچا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک
Dawn

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران مالی خسارہ 6 فیصد سے زیادہ نہیں تھا۔ اس دوران ہم نے عوام کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا۔ ملکی برآمدات 24 ارب ہوگئی تھیں۔ ڈالر کے لحاظ سے آج ہم 2013 کے مقابلے میں 10 ارب ڈالرز کے خسارے میں ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران سلیم مانڈوی والا نے گورنر اسٹیٹ بینک کا معاملہ تفصیل سے اٹھایا اور کہا کہ مرکزی بینک نے جان بوجھ کر سود کی شرح میں کچھ بیرون ملک موجود لوگوں کی حمایت کی۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے خلاف ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔ مجھے بتا دیں کہ آپ کا ملک لوٹ لیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ سود کی شرح 12 فیصد ہونی چاہیے لیکن یہ شرح 13.5 فیصد کردی گئی ہے۔ شرح سود کی ایڈجسٹمنٹ میں خسارہ 300 ارب روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاملہ سینیٹ کی فنانس کمیٹی میں اٹھایا جائے گا اور ہم گورنر اسٹیٹ بینک کو بھی نہیں بخشیں گے۔ ہم انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ 700 ارب کا اسکینڈل بھی ہے جس کے بارے میں حکومت کو کوئی علم نہیں ہے۔

سلیم مانڈوی والا نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے قرض سے نجات دلانے کی بات کی تھی۔ آج ملک مزید اربوں روپے کا مقروض ہوگیا ہے۔ پاکستان کے سفارتی تعلقات بہتر نہیں ہوئے ہیں۔ حکومت کی کشمیر پالیسی بھی ناکام ہوچکی ہے۔ افسوس کہ ملک میں کوئی ویکسینیشن نہیں ہے، پھر امداد کہاں جارہی ہے؟ احساس پروگرام دراصل بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے۔ ملک میں کہیں بھی بلدیاتی اصلاحات نہیں ہوئیں۔ محکمہ پولیس کی اصلاح نہیں کی گئی ہے لیکن 5 آئی جیز تبدیل کردیئے گئے ہیں۔ قانون سازی میں اصلاحات ابھی تک نہیں کی گئیں۔

متعلقہ تحاریر