پاکستان میں ایک لاکھ گدھوں کا اضافہ

اقتصادی سروے کے مطابق ایک سال میں گدھوں کی تعداد 55 لاکھ سے بڑھ کر 56 لاکھ ہوگئی ہے۔

پاکستان کے شعبہ لائیو اسٹاک کے ایک اقتصادی سروے کے مطابق ملک بھر میں گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایک سال کے دوران گدھوں کی تعداد 55 لاکھ سے بڑھ کر 56 لاکھ ہوگئی ہے تاہم گھوڑوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔

رواں مالی سال 2020-21 کے جاری کردہ اقتصادی سروے کے مطابق شعبہ لائیو اسٹاک کی شرح نمو میں 3 فیصد کے قریب اضافہ ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آج آنے والے بجٹ پر اراکین پارلیمنٹ کی توقعات

اقتصادی سروے کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں خچروں کی تعداد تقریباً 2 لاکھ تک ہے۔ جبکہ ایک سال میں بھیڑوں کی تعداد 4 لاکھ اضافے کے ساتھ 3 کروڑ 12 لاکھ سے بڑھ کر 3 کروڑ 16 لاکھ ہوگئی ہے۔

ملک میں بکریوں کی تعداد میں ایک سال کے دوران 21 لاکھ تک اضافہ ہوا اور تعداد 7 کروڑ 82 لاکھ سے بڑھ کر 8 کروڑ 3 لاکھ ہوگئی ہے۔

گدھوں کی تعداد اضافہ
qcsupply

اقتصادی سروے کے مطابق مویشیوں کی تعداد میں سالانہ بنیاد پر 19 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جن کی تعداد 4 کروڑ 96 لاکھ سے بڑھ کر 5 کروڑ 15 لاکھ ہوگئی ہے۔ ایک سال کے دوران بھینسوں کی تعداد میں 12 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے اور یوں یہ تعداد 4 کروڑ 12 لاکھ سے بڑھ کر 4 کروڑ 24 لاکھ ہوگئی ہے۔

اقتصادی سروے کے مطابق گزشتہ 13 سالوں سے گھوڑوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے جبکہ گزشتہ 16 سال سے خچروں کی تعداد میں کوئی اضافہ یا کمی نہیں ہوئی ہے۔ 5 برسوں سے اونٹوں کی تعداد میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

گدھوں کی تعداد اضافہ
thehorse

اقتصادی سروے کے مطابق اونٹوں، گھوڑوں اور خچروں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہ ہونے کے سبب ملک میں اونٹوں کی تعداد 11 لاکھ، گھوڑوں کی تعداد 4 لاکھ جبکہ خچروں کی تعداد 2 لاکھ ہے۔

اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق پولٹری کی تعداد میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ملک میں مرغیوں کی تعداد 1 ارب 44 کروڑ 30 لاکھ تھی جو رواں مالی سال میں بڑھ کر 1 ارب 57 کروڑ 80 لاکھ ہوگئی ہے۔

متعلقہ تحاریر