سویا بین پر ٹیکس بڑھنے سے خوردنی تیل اور مرغی مزید مہنگی

ایوا کوکنگ آئل کے سی ای او کے مطابق مرغی کی خوراک مہنگی ہونے سے مرغی کی قیمت بھی بڑھے گی۔

پاکستان کی معروف ایوا کوکنگ آئل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شکیل اشفاق نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں سویا بین پر سیلز ٹیکس 7 فیصد بڑھنے سے خوردنی تیل 21 روپے فی لیٹر مہنگا جبکہ مرغی کی خوراک بھی 4 روپے فی کلو مہنگی ہوجائے گی۔ مرغی کی خوراک مہنگی ہونے سے مرغی کی قیمت بھی بڑھے گی۔

نیوز 360 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایوا کوکنگ آئل کمپنی کے سی ای او شکیل اشفاق نے کہا ہے کہ نئے وفاقی بجٹ میں سویا بین پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کیا جا رہا ہے۔ اس طرح سویا بین تیل کی فی لیٹر قیمت بڑھنے کا خدشہ ہے۔ جبکہ مرغی کی خوراک پر بھی سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کی جا رہی ہے۔ سویا بین کی درآمد مہنگی ہونے سے مرغیوں کی خوراک بھی مہنگی ہوجائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ میں گیس کی بندش، قلت یا سیاسی محرکات؟

انہوں نے کہا ہے کہ پولٹری فارمز کے خام مال پر ٹیکس بڑھانے سے مرغی کی قیمت بڑھے گی۔ جو کارخانے مرغی کی خوراک تیار کرتے ہیں انہیں سیلز ٹیکس کا اِن پُٹ نہیں ملتا۔ وہ کارخانے جو یہ خوراک تیار کرتے ہیں اور جنہیں یہ خوراک فراہم کی جاتی ہے یعنی ’پولٹری فارم‘ والے سیلز ٹیکس وصول نہیں کرسکتے کیونکہ زندہ مرغی پر سیلز ٹیکس لاگو نہیں ہوتا ہے۔ اس طرح فوری طور پر مرغی 3 سے 4 روپے فی کلو مہنگی ہوجائے گی۔

پاکستان میں سویا بین کی پیداوار نہ ہونے کے برابر

شکیل اشفاق نے بتایا کہ پاکستان میں سویا بین کوکنگ آئل تیار کرنے والے تمام آئل اور گھی ملز کا دارومدار درآمدی سویا بین پر ہوتا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں سویا بین کی قیمت میں 77 فیصد اضافہ ہوا ہے جو پاکستان میں خوردنی تیل اور مرغی کی فیڈ مہنگی ہونے کا سبب بنا ہے۔ اب حکومت اس پر ٹیکسز میں مزید اضافہ کر رہی ہے جس سے خوردنی تیل اور مرغی کی خوراک مزید مہنگی ہوگی۔

متعلقہ تحاریر