موبائل کالز پر ٹیکس سے سب سے زیادہ غریب طبقہ متاثر ہوگا

نئے ٹیکس سے ایک گھنٹے کی کال پر 9 روپے بڑھ جائیں گے۔

حکومت کا موبائل کالز پر عائد کردہ ٹیکس سب سے زیادہ ان غریب موبائل فون صارفین کو متاثر کرئے گا جن کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہوتے ہیں۔ نیوز 360 نے اس حوالے سے موبائل فون کمپنیز کے اعلیٰ عہدیداروں سے بات چیت کی ہے۔

حکومت نے پہلے موبائل فون کالز 3 منٹ کے بعد ایک روپیہ اور ایس ایم ایس پر 10 پیسے اور انٹرنیٹ ڈیٹا کے ایک جی بی پر 5 روپے ٹیکس لگایا، پھر پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے اعلان کردیا کہ کالز پر ٹیکس کا فیصلہ ختم کردیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے 11 جون کے اجلاس میں اس کی مخالفت کردی تھی تاہم یہ غلطی سے فنانس بل میں شامل ہوگیا تھا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل کا جائزہ لیا اور اس دوران تقریباً 180 سینیٹرز کی ٹیکس تجاویز بھی دیکھیں، جن میں سے 114 تجاویز کو فنانس بل میں ترمیم کے ساتھ قومی اسمبلی بھیجا گیا۔ تمام سینیٹرز نے موبائل فون کالز پر ٹیکس کی مخالفت کی اور ہر دفعہ ہر سینیٹر کی اسی  تجویز پر ٹیکس حکام یہ کہتے رہے کہ یہ فنانس بل میں غلطی سے شامل ہوگیا ہے۔ تاہم وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں یوٹرن لیتے ہوئے یہ ٹیکس پھر لگا دیا۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی ہیلپ لائن پر بوگس کالز کی بھرمار

ٹیلی کام کمپنیز ٹیکس پر پیچیدہ صورتحال میں کیسے پھنس گئیں؟

ملک کی دو بڑی موبائل فون کمپنیز کے اعلیٰ عہدیداروں نے نیوز360 سے گفتگو میں بتایا کہ یہ ٹیکس صارفین اور خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کے صارفین کو متاثر کرے گا۔ ٹیلی فون کمپنیز کے عہدیداروں کے مطابق اس ٹیکس سے کالز مہنگی ہوجائیں گی اور پانچ منٹ کی کال پر 75 پیسے، 10 منٹ کی کال پر ڈیڑھ روپے، 30 منٹ کی کال پر 4 روپے 50 پیسے اور ایک گھنٹے کی کال پر ٹیکس کی رقم  9 روپے تک پہنچ جائے گی۔

غریب اور دیہی علاقوں کے صارفین کا استحصال کیوں؟

نجی موبائل فون کمپنیز کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کا موجودہ ٹیکس سب سے زیادہ ایسے غریب موبائل فون صارفین کو متاثر کرے گا جن کے پاس اسمارٹ فون کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ یہ صارفین مختلف دیہی علاقوں سے شہروں میں روزگار کے لیے آتے ہیں اورگاؤں میں اپنے اہل خانہ سے امور خانہ داری، خاندانی مسائل اور دیگر خاندانی زمہ داریوں کے لیے طویل بات چیت کرتے ہیں۔

پاکستان کے بیشتر اسمارٹ فون صارفین انٹرنیٹ اور ڈیٹا کے ذریعے کال  کرتے ہیں اور ملک کے بڑے شہروں میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی موجود ہے۔  بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت پنجاب کے کئی اضلاع میں انٹرنیٹ سروسز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لیے تمام صارفین کو موبائل فون کے ذریعے ہی کال کرنا پڑتی ہے۔

نجی موبائل فون کمپنیز کے اعلیٰ عہدیداروں نے نیوز 360 کو بتایا کہ ملک میں روزانہ لاکھوں افراد اپنے موبائل سے مختلف بینکس، انشورنس کمپنیز، ٹیلی مارکیٹنگ کمپنیز اور دیگر مسائل کے لیے فون پر رابطہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر بینکنگ، اے ٹی ایم کارڈ، اے ٹی ایم کارڈ کی پن، موبائل بینکنگ، فیول کارڈ، وائی فائی کمپنیز اور ٹیلی کام کمپنیز کے دفاتر میں اسی موبائل نمبر سے فون کرنا پڑتا ہے جو پہلے سے دیا گیا ہو۔ ایسے میں صارفین انتظار کی اذیت سے دو چار ہوتے ہیں۔ 5 منٹ کے بعد ٹیکس عائد ہونا ایسے صارفین کے لیے دہری مشکل کا باعث بنے گا۔

متعلقہ تحاریر