فوڈ پانڈہ انتظامیہ نے رائیڈرز کا معاشی قتل شروع کردیا

فوڈ پانڈہ انتظامیہ نے رائیڈرز کی کمیشن 65 روپے سے کم کر کے 35 روپے کردی ہے۔

کرونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران مقبول ہونے والی ڈلیوری ایپ فوڈ پانڈہ کی انتظامیہ نے رائیڈرز کی کمیشن کم کرکے فی سواری (پر رائیڈ) 30 سے 35 روپے کردی ہے جبکہ اس سے پیشتر فی سواری (پر رائیڈ) یہ کمیشن 60 سے 65 روپے تھی۔

فوڈ پانڈہ انتظامیہ کی جانب سے کمیشن میں کمی کے خلاف رائیڈرز نے لاہور پریس کلب کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ رائیڈرز نے ہاتھوں پر پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے جن پر رائیڈرز کا معاشی قتل بند کرو کے نعرے درج تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ایف بی آر کی نولانگ ڈیم فنڈز سے کٹوتی

نیوز 360 کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رائیڈرز کا کہنا تھا کہ فوڈ پانڈہ انتظامیہ ہمارا معاشی قتل کررہی ہے، ہمارے ساتھ طے شدہ تنخواہ نہیں دی جارہی ہے اور نہ ہی ہمارا بونس دیا جارہا ہے۔

رائیڈرز کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے مطالبات انتظامیہ کے سامنے رکھے تھے مگر 15 روز گزرنے کے باوجود ہمارے مطالبات نہیں مانے گئے ہیں۔ انتظامیہ ہمیں تنگ کرنے کے لیے ہمارے زونز کی بجائے دوسرے زونز میں بھیجا جارہا ہے۔ دھمکایا جارہا ہے کہ ڈلیوری وقت پر نہ ہوئی تو آرڈر کے پیسے ہم (رائیڈرز) سے لیے جائیں گے یا ہمیں آف بورڈ کردیا جائے گا۔

انتظامیہ کے رویے کا شکوہ کرتے ہوئے رائیڈرز کا کہنا تھا کہ کلومیٹر کا ریٹ واضح نہیں کیا جارہا ہے اور تو اور صرف 3 دن یعنی جمعہ ، ہفتہ اور اتوار کا ٹارگٹ بونس دیا جاتا ہے۔ ہماری انشورنس برائے نام ہے ہمارے ساتھ کوئی حادثہ ہوجائے یا ڈکیتی ہوجائے کمپنی کی جانب سے کچھ نہیں دیا جاتاہے۔ ہماری موٹر سائیکل، موبائل یا پیسے چلے جائیں تو کمپنی پیسے دینے کی بجائے ایف آئی آر درج کرانے کا مشورہ دے دیتی ہے۔ کمپنی سے پیٹرول مانگا جائے تو کہا جاتا ہے کہ کام کرنا کریں ورنہ چلیں جائیں۔

ایک رائیڈر نے بتایا کہ کام کے دوران میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا مگر ازالے کے طور پر کچھ نہیں دیا گیا۔ کمپنی ہمیں ہمارا کمیشن نہیں دیتی ہے ۔ بعض اوقات گاہک ڈسکاؤنٹ کے لیے غلط شکایت کردیتا ہے جس پر ہمارا موقف بھی نہیں سنا جاتا اور ہمیں آف بورڈ کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہی رہا تو ہم احتجاج کرنے کے ساتھ مکمل طور پر کام بند کردیں گے۔

ایک اور رائیڈر نے بتایا کہ میرے ساتھ واردات ہوئی، کمپنی کو بتایا گیا تو ایف آئی آر کا مشورہ دیا گیا، ایف آئی آر کے باوجود مجھے پیسے نہیں دیے گئے، دفتر بلاتے ہیں اور گھنٹوں بٹھاتے ہیں اور آئندہ آنے کا کہہ واپس بھیج دیتے ہیں۔ انشورنس کے نام ہفتہ وار 14 روپے کٹتے ہیں مگر ضرورت پڑنے پر کمپنی کچھ نہیں دیتی ہے۔

نیوز 360 نے فوڈ ڈلیوری کمپنی فوڈ پانڈہ سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا تو خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا۔ رائیڈرز کی ٹریننگ اور ان کے معاملات دیکھنے والے لوجیسٹک ڈیپارٹمنٹ کے اہکار نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا کہ ہمیں ان مسائل پر میڈیا سے بات چیت سے روک رکھا ہے، ان معاملات کو لیگل اینڈ پی آر ٹیم دیکھ رہے ہیں، رائیڈرز کے الزامات کتنے سچے ہیں اور کیا جھوٹ ہے سب جانتے ہیں مگر بات نہیں کرسکتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر