بجلی گھروں کو گیس کی فراہمی جاری، صنعتکار پریشان

حکومتی عہدیدار کے مطابق گیس کی صنعتوں کو پیشگی اطلاع کے بغیر معطلی سے کاروباری طبقہ شدید ہیجان کا شکار ہے۔

روز نامہ ڈان کی حالیہ رپورٹ کے مطابق عیدالاضحیٰ سے قبل صنعتوں کو گیس کی فراہمی روک کر بجلی گھروں کو شروع کردی گئی جس سے صنعتوں کا پہیہہ جام ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

سوئی سدرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس ای جی پی ایل) کا کہنا ہے کہ بجلی گھروں کو گیس کی فراہمی کا فیصلہ بجلی کی طلب میں اضافے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عید سے قبل آن لائن شاپنگ کا بڑھتا رجحان

سوئی سدرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے مینوفیکچررز نے صنعتوں کو بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

روزنامہ ڈان کے مطابق شیخوپورہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) کے صدر عادل محمود کا کہنا ہے کہ پیشگی اطلاع کے بغیر گیس کی اچانک معطلی سے صنعتی نظام سے جڑے تمام لوگ متاثر ہوں گے، انڈسٹری کی بندش سے لوگوں کا روزگار چلا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے گیس کی بندش کرنی ہی تھی تو پہلے سے اطلاع دینا چاہیے تھی۔ اب عید کی تعطیلات کے سبب بجلی پیدا کرنے کے لیے تیل حاصل نہیں کرسکیں گے۔

سوئی سدرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے جن علاقوں کو گیس کی فراہمی معطل کی ہے ان میں شیخوپورہ ، گوجرانوالہ ، رائے ونڈ اور پنجاب کے دیگر علاقے شامل ہیں۔

شیخوپورہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) کے صدر عادل محمود نے پیٹرولیم ڈویژن کے سکریٹری ڈاکٹر ارشاد محمود سے بھی رابطہ کرکے صنعتکاروں کی مشکلات سے آگاہ کیا ہے۔

عادل محمود نے کہنا ہے کہ ” ہم نے وزیر اعظم عمران خان اور دیگر اعلیٰ حکام کو گیس کی بندش سے متعلق 72 گھنٹے قبل خطوط لکھے تھے۔”

صدر شیخوپورہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ فرنس آئل کی کمی سے دودھ کی پروسیسنگ میں مصروف کمپنیوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

روز نامہ ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے عادل محمود کا کہنا تھا کہ ویسے ہی ہفتے بھر میں محدود پیمانے میں گیس فراہم کی جارہی تھی، تاہم انڈسٹری کو چلانے کے لیے جنریٹرز کا استعمال کیا جاتا تھا۔

روزنامہ ڈان کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین کو بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کھاد، سیمنٹ اور دیگر صنعتوں کو گیس کی فراہمی معطل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

روزنامہ ڈان کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بجلی کا شارٹ فال تیزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ شدید گرمی کی وجہ سے طلب میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔

عہدیدار نے فیصلہ سازوں کو ذمے دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ ” وہ لوگ تیل کی خریداری کے لیے دیر سے آرڈر دیتے ہیں جس کی وجہ سے بجلی کا بحران پیدا ہوا ہے۔”

Facebook Comments Box