برآمدات اور ٹیکس محصولات میں اضافہ مگر ڈالر کی اونچی اڑان

انٹربینک میں ڈالر 1.24 روپے مہنگا، مالی سال کے پہلے مہینے میں ملکی برآمدات میں 17.3 فیصد اضافہ ریکارڈ جبکہ ٹیکس محصولات کی مد میں 413 ارب روپے جمع کرلیے گئے۔

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کے باوجود ملکی برآمدات میں مالی سال 2021-22 کے پہلے مہینے میں 17.3 فیصد اضافہ جبکہ ایف بی آر کے مطابق نئے مالی سال کے پہلے مہینے میں 413 ارب روپے کے ٹیکس محصولات حاصل ہوئے ہیں۔

کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستانی روپیہ ایک مرتبہ پھر دباؤ کا شکار رہا، اور ڈالر کے مقابلے میں گزشتہ ساڑھے 9 ماہ کی کم ترین سطح پر بند ہوا۔ انٹر بینک میں ڈالر 1 روپیہ 24 پیسے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 1 روپیہ 50 پیسے مہنگا ہوگیا۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق دن کے اختتام پر ڈالر انٹر بینک میں 163.67 روپے پر بند ہوا جبکہ اوپن مارکیٹ میں 164.20 روپے پر بند ہوا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق یکم جولائی 2021 سے روپے کی قدر میں 3.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اعدادوشمار شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی سال 2021-22 کے پہلے مہینے کے دوران ملکی برآمدات میں 17.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2021-22 کے پہلے مہینے یعنی جولائی میں ملکی برآمدات بڑھ کر 2.35 بلین ڈالرز ہو گئیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ جولائی 2020 میں یہ برآمدات 2 بلین ڈالرز تھی، اس طرح یہ جولائی کے مہینے میں اب تک کی سب سے زیادہ برآمدات ہیں۔

ادھر وفاقی ادارہ شماریات (ایف بی آر) کے مطابق ٹیکس فائلرز کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ مالی سال 2020 میں ٹیکس  فائلرز کی تعداد 3.53 ملین تھی جبکہ مالی سال 2019 میں یہ تعداد 2.72 ملین تھی۔

ایف بی آر کے مطابق مالی سال 2019-20 میں 33 بلین روپے حاصل ہوئے تھے جبکہ 2020-21 میں 51 بلین روپے کی ٹیکس محصولات جمع ہوئے تھے۔ اس طرح ٹیکس محصولات میں 54 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایف بی آر کے مطابق 11 ہزار 744 پوائنٹ آف سیل ٹرمینلز کو ریئل ٹائم رپورٹنگ سسٹم سےمنسلک کردیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق مالی سال 2021-22 کے پہلے مہینے میں ٹیکس محصولات کی مد میں 413 ارب روپے حاصل کرلیے گئے ہیں، جبکہ ہدف 342 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔

Facebook Comments Box