روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے بہتر نتائج سامنے آگئے

سمندر پار پاکستانیوں نے 2 ارب 40 لاکھ ڈالر ملک میں بھجوائے ہیں۔

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے ملک میں بھجوائی گئی رقم کی مالیت 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ ماہرین معاشیات نے حکومت کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملکی معیشت کی بہتری کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنے کے بجائے اس طرح کے مزید پروگرامز متعارف کروائے۔

وفاقی حکومت نے مختلف ممالک سے پاکستان میں رقم کی منتقلی کے لیے ستمبر 2020 میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ متعارف کروایا، وقت کے ساتھ ساتھ اوورسیز پاکستانیوں کی اس میں دلچسپی بڑھتی رہی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ 13 اگست تک سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے بھجوائی گئی رقم کی مالیت 2 ارب 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی کے اختتام تک اس پروگرام کے ذریعے ایک ارب 86 کروڑ 90 لاکھ ڈالر جمع کروائے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ڈھائی ماہ میں جمع کروائی گئی رقم میں750 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا جمعے کی چھٹی معیشت کے لیے فائدہ مند ہے؟

سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے بھجوائی گئی رقم ملکی معیشت کے لیے سودمند ثابت ہورہی ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کو معاشی بحران سے نکلنے کے لیے سخت شرائط پر 650 ارب ڈالرز کی رقم دے رہا ہے لیکن اس کی نسبت روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں غیرملکی پاکستانیوں نے بغیر کسی سود کے 2 ارب ڈالر جمع کروا دیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے شرائط پر عملدرآمد کرتی ہے تو اس سے مہنگائی میں بےتحاشہ اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت کو عالمی مالیاتی اداروں کی طرف جانے کے بجائے ملک میں رقم کی منتقلی کے لیے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی طرز کے مزید پروگرامز متعارف کروانے چاہئیں، جن سے ملکی معیشت پر بہتر اثرات مرتب ہوں گے اورغریب عوام پر کوئی بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔

Facebook Comments Box