اسٹینڈرڈ اینڈ پوورز نے حکومت کی معاشی پالیسیز کو مثبت قرار دے دیا

گلوبل ایجنسی کے مطابق  2024 تک فی کس جی ڈی پی 1،600 ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔

اسٹینڈرڈ اینڈ پوورز (ایس اینڈ پی) گلوبل ریٹنگز ایجنسی نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وبائی مرض کووڈ 19 کی پہلی اور دوسری لہر کے منفی اثرات سے پاکستانی معیشت باہر نکل رہی ہے۔

ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز  نے اپنی رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت کی معاشی اصلاحات کی وجہ سے پاکستان کے اندرونی مالیاتی اور بیرونی مالیاتی ادائیگیوں میں استحکام آرہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

غیر ملکی سرمایہ کاری سے اسٹاک مارکیٹ میں تیزی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف شعبوں میں کثیرالجہتی سرمایہ کاری کی بدولت بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں رواں سال بہتری آئی ہے۔

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کافی بہتر دکھائی دے رہی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے سبب اگلے سال بھی بیرونی ادائیگیوں میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی گی۔

ریٹنگ ایجنسی نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کی معیشت آہستہ آہستہ ٹھیک ہوتی چلی جائے گی کیونکہ عالمی وبائی بیماری میں آہستہ آہستہ کمی آتی جارہی اور پاکستان میں ویکسینیشن کا عمل بھی تیز ہو گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی متوازن کھپت اور بیرونی سرمایہ کاری کی بدولت اگلے مالی سال کے دوران شرح نمو 4.1 تک پہنچنے کی امید ہے۔

ایس اینڈ پی نے کہا کہ 2017 سے 2020 کے درمیان امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تقریباً ٪ 38 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی وجہ سے فی کس آمدنی جمود کا شکار رہی ہے۔

تاہم رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2024 تک فی کس جی ڈی پی 1،600 ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔

ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے مزید کہا ہے کہ حکومت کی ترتیب دی گئی معاشی پالیسیز کے تحت ٹیکس محصولات میں آہستہ آہستہ بہتری آرہی ہے جو ادائیگیوں کا بوجھ کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

Facebook Comments Box