کرونا وائرس نے ٹویوٹا گاڑیوں کی پیدوارا کم کردی

ویتنام میں قائم ٹویوٹا کے پلانٹ میں کرونا کا کیس ظاہر ہونے پر پلانٹ بند کرنے سے بحران پیدا ہوا۔

ویتنام میں  گاڑیوں کی مشہور کمپنی ٹویوٹا کے پلانٹ میں کام کرنے والے ایک ملازم کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر انتظامیہ نے پلانٹ بند کروادیا۔ پیداوار معطل ہونے پر دنیا بھر میں ٹویوٹا کی مینوفیکچرنگ رک گئی۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں گزشتہ ماہ کی شروعات میں ملازم  کا  کرونا مثبت ٹیسٹ آنے پر 4 اگست کو صوبائی انتظامیہ نے گاڑیوں کے پارٹس بنانے والے پلانٹ کو بند کروادیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق یہ فیکٹری ٹویوٹا کے ایک اہم سپلائر کے ذریعے چلائی جارہی ہے اور یہ ٹویوٹا کے پارٹس بنانے والا سب سے بڑا پلانٹ ہے۔ غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ کرونا کیس سامنے آنے کے بعد ٹویوٹا کمپنی نے اپنی گاڑیوں کی پیداوار میں 40 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سستی گاڑیاں اب فراٹے بھریں گی

غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ پلانٹ بند ہونے سے ٹویوٹا کو اب متبادل پرزوں کو محفوظ بنانے اور گاڑیوں کی عالمی مانگ کو پورا کرنے میں بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹویوٹا کی جانب سے گاڑیوں کی پیداوار میں 40 فیصد کمی کے اعلان نے اس اہم  سوال کو جنم دے دیا ہے کہ کیا گاڑیوں  کی انڈسٹری کرونا صورتحال بہتر ہونے کے بعد اپنا کام پہلے کی طرح شروع کر پائے گی۔

Facebook Comments Box