660کےوی مٹیاری-لاہور ٹرانسمیشن لائن سےبجلی کی ترسیل کا آغاز

پاک چین دوستی کی ایک اور کامیابی، سی پیک کے تحت نیا ٹرانسمیشن منصوبہ مکمل

پاک چین دوستی، سی پیک کے تحت پاکستان میں تاریخی ٹرانسمیشن منصوبہ مکمل،  660 کے وی مٹیاری – لاہور ٹرانسمیشن لائن نے بجلی کی ترسیل کا آغاز کردیا گیا۔

پاک چین دوستی کی ثمر، چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے فلیگ شپ منصوبے 660 کے  مٹیاری۔ لاہور ٹرانسمیشن لائن  بجلی کی ترسیل شروع ہوگئی ہے۔  660   وی ایچ وی ڈی سی مٹیاری۔ لاہور ٹرانسمیشن لائن نے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی لمیٹڈ (این ٹی ڈی سی) اور پاک مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن لائن کمپنی (پی ایم ایل ٹی سی) کے مابین طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق یکم ستمبر 2021 کو کمرشل بنیادوں پر بجلی کی ترسیل شروع کر دی۔

یہ منصوبہ کمرشل آپریشن ڈیٹ یعنی سی او ڈی کے تحت کامیابی سے ٹیسٹ کیا گیا ہے۔  پاور ٹیسٹ میں کمیشننگ ٹیسٹ (ڈی سی سٹیشن ٹیسٹ) لاہور ، کمیشننگ ٹیسٹ (DC سٹیشن ٹیسٹ) مٹیاری ، مونو پول لو پاور سسٹم ٹیسٹ (400 میگاواٹ تک) ، بائی پول لو پاور سسٹم ٹیسٹ (800 میگاواٹ تک بائی پول) ، مونو پول ہائی پاور ٹیسٹ (2200 میگاواٹ ) ، بائی پول ہائی پاور ٹیسٹ زیادہ سے زیادہ دستیاب پاور، اسپیشل آپشنل ٹیسٹس) جبکہ آخری ٹیسٹ یعنی ٹرائل آپریشن (168 گھنٹے) اور صلاحیت کا مظاہرہ ٹیسٹ (06 گھنٹے) 18 اگست 2021ءکو کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ یعنی اس منصوبے کی مکمل جانچ کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

سی پیک کے تحت 28 ارب ڈالرز کے نئے منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ

پہلی 660 کے وی ایچ وی ڈی سی مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن لائن سے این ٹی ڈی سی ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں مزید استحکام آئے گا ۔

 878  کلومیٹر اور4000 میگاواٹ کا منصوبہ پاک مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے 25 سال کی مدت کےلئے بلٹ اون آپریٹ ٹرانسفر کی بنیاد پر مکمل کیا گیا ہے۔ اس منصوبے سے ملک کے جنوبی حصوں میں واقع بجلی گھروں سے بجلی کی ترسیل کی جائے گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 25 جولائی 2017 کو سیکورٹی پیکج دستاویزات یعنی نفاذ کا معاہدہ (ایل اے) اور ٹرانسمیشن سروسز معاہدہ (ٹی ایس اے) کی منظوری دی جو بعد میں 14 مئی 2018 کو عمل میں لائی گئی۔ معاہدے کے تحت این ٹی ڈی سی ٹرانسمیشن لائن کے آپریشن اور دیکھ بھال کی ذمہ دار ہوگی۔

ایچ وی ڈی سی ٹیکنالوجی ملک کے قومی گرڈ میں ایک پہلا اضافہ ہے ، جو کہ دنیا بھر میں طویل عرصے سے وسیع پیمانے پر استعمال ہورہی ہے۔ یہ منصوبہ این ٹی ڈی سی کےلئے ایک سنگ میل ہے جو این ٹی ڈی سی مشن کے مطابق ایک قابل اعتماد ، موثر اور مستحکم قومی گرڈ میں معاون ثابت ہوگی۔ اس منصوبے سے پاکستان میں بجلی کی ترسیل کا نظام موثر ہوگا، بجلی کے ترسیلی نقصانات میں کمی ہوگی اور بجلی کی پیداوار کو صارفین تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

Facebook Comments Box